قومی اسمبلی: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف احتجاج

اسلام آباد: بجٹ پر بحث کے دوران اراکین قومی اسمبلی کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف احتجاج، قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت کی چیئرپرسن سائرہ بانو نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاج کرتے ہوئے اپنا سرکاری فیول کارڈ واپس کردیا۔

اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کی رکن اور تخفیف غربت کمیٹی کی چیئرپرسن سائرہ بانو نے پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنا سرکاری فیول کارڈ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرادیا۔ سائرہ بانو نے کہا کہ دیہاڑی دار طبقہ اور رکشہ ڈرائیورز خودکشی کرنے پر مجبور ہیں ایسی صورتحال میں فیول کارڈ کیسے رکھ سکتی ہوں؟

پیپلز پارٹی شگفتہ جمانی نے کہا کہ ہمیں دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی مدارس کے لئے بھی چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ بجٹ مختص کرنا چاہیئے۔ نیب کا قانون سیاسی لوگوں کو ختم کرنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ اس ملک کے مسائل کا حل ٹیکنوکریٹس کے پاس نہیں بلکہ سیاستدانوں کے پاس ہے۔ بابوؤں سے ملک کی جان چھڑائی جائے۔میر منور تالپور نے کہا کہ ہمیں زراعت پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ قیمتیں نہیں بڑھائی جائیں گی۔ لوگوں نے اپنے رکشے جلادیئے ہیں۔ یہ حالات رہے تو لوگ خود کشی کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

پی ٹی آئی کے منحرف رکن نور عالم خان بولے، اپنی گاڑی میں پیٹرول بھی اپنی جیب سے ڈلواتا ہوں۔ ہم مراعات کے بغیر ماضی کے حکمرانوں سے زیادہ کام کر رہے ہیں۔ یہ تو جلسوں میں بھی ہیلی کاپٹر پر جاتے ہیں اگر عمرانی حکومت کا آئی ایم ایف سے کوئی معاہدہ ہوا تھا تو اس کو ایوان میں لایا جائے۔ مفتاح اسماعیل بھڑکیاں تو مارتے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ پیپلز پارٹی کے غلام مصطفیٰ شاہ نے کہا کہ آج پاکستان ایف اے ٹی ایف کے گرے لسٹ سے نکل آئے گا۔قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More