قومی اسمبلی:حکومتی رکن بھی حکومتی رویے پر نالاں

اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کی طرح حکومتی رکن بھی حکومتی رویے پر نالاں، نور عالم خان بولے کیا ہم صرف یہاں ووٹ دینے آئے ہیں؟ وزرا کی تین بینچز کے نام ای سی ایل میں شامل کریں سب ٹھیک ہو جائیگا۔

وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان بولے اس ایوان کا تقدس سب پر لازم ہے۔ کل جو ہوا اس پر دکھ ہے جواباً خواجہ آصف بولے؛ کیا کل اسپیکر چیئر کا رویہ قابل احترام تھا؟ تاریخ وطن فروشی کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

اجلاس ڈپٹی اسپیکر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر پیپلز پارٹی کی شازیہ مری بولیں عوام پر ساڑھے تین سو ارب کا ٹیکس عائد کردیا گیا جبکہ اسٹیٹ بینک کو بھی گروی رکھ دیا گیا، اس حکومت پر عوام اور اپوزیشن کے احتجاج کا کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔

وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان بولے احتجاج مہذب انداز میں قابل قبول ہے اور ہم حوصلے سے سننے کے لئے تیار ہیں مگرکل آخری پندرہ منٹس میں چیئر کی بے احترامی کی گئی جو قابل افسوس ہے۔

ن لیگ کے خواجہ آصف نے جواب دیا جو رویہ سپیکر چیئر نے روا رکھا، کیا وہ قابل احترام تھا ؟ دور آمریت میں بھی ایسا کبھی نہیں ہوا جو کل آپ نے کیا، وطن فروشی کی گئی، اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے منہ پر مار دیا گیا، تاریخ کبھی آپ کو معاف نہیں کرے گی۔

حکومتی رکن نور عالم خان چیئر پر برس پڑے، بولے بیک بینچرز بھی ووٹ لے کر آئے صرف ووٹ دینے کے لئے نہیں مگر ڈپٹی سپیکر ہماری طرف دیکھتے ہی نہیں، پہلی تین بینچز گناہ گار ہیں، نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں، یہ اپنی لینڈ کروزر اور طیاروں سے اتریں تو معلوم ہو عوام کا کیا حال ہے۔

ن لیگ کے ریاض پیرزادہ بولے پہلے دریا، پھر کشمیر اور اب اسٹیٹ بینک بھی دیدیا اب یہ حال ہوگیا الیکشن لڑنے کو بھی دل نہیں کرتا، حکومتی رکن امجد علی بولے اسٹیٹ بینک کو بیچا نہیں خود مختاری دی گئی ہے، حکومتی رکن فہیم خان نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ صوبہ میں لاقانونیت کی حد ہوچکی، محسن داوڑ بولے کے پی کو مہنگی گیس دی جارہی ہے، ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس 17 جنوری شام چار بجے تک ملتوی کردیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More