ملک میں 29 نومبر تک کے لئے چینی کے ذخائر موجود ہیں

اسلام آباد: وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ ملک میں انتیس نومبر تک کے لئے چینی کے ذخائر موجود ہیں۔ شوگر ملوں میں پندرہ نومبر سے گنے کی کرشنگ کے آغاز کے بعد چینی کی قیمت میں مزید کمی آجائے گی۔ اسپیکر اسد قیصر نے کسان کارڈ کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں صنعت و پیداوار نے وقفہ سوالات کے دوران بتایا کہ شوگر ملز اور درآمدی چینی کے ذخائر شامل کرکے ملک میں اعشاریہ چھ ملین میٹرک ٹن چینی موجود ہے۔ چھ ہفتوں کے اتار چڑھاؤ کے بعد چینی کی فی کلو قیمت پھر سو روپے ہوگئی ہے۔ وزارت کے تحریری جواب کے مطابق پندرہ نومبر سے گنے کی کرشنگ کے بعد چینی کی قیمت میں نمایاں کمی آجائے گی ۔

قومی اسمبلی وقفہ سوالات میں وفاقی وزیر علی زیدی نے ایوان کو بتایا ملک میں استعمال شدہ جہاز درآمد کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ڈیپ سی فشنگ پالیسی تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر تشکیل دی گئی ہے کسی غیر ملکی کو بغیر رجسٹریشن پاکستان میں ٹرالنگ کی اجازت نہیں ہم نے جوائنٹ وینچر بھی بند کر دیا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ گندم اور چینی سمیت پونے بارہ ارب ڈالر مالیت کے فوڈ آئٹمز درآمد کرنے کے باوجود ہم خود کفیل کیسے ہو گئے، جس پر پارلیمانی سیکریٹری خوراک و زراعت عامر سلطان چیمہ نے کہا ہمارے ہاں تمام اجناس کی پیداوار نہیں ہے۔ بیج بھی باہر سے منگوانا پڑتے ہیں۔

وقفہ سوالات میں رکن مسلم لیگ ن احسن اقبال نے بتایا کہ ڈی اے پی کھاد کی قیمت اس وقت آٹھ ہزار روپے ہوچکی ہے۔ اتنی مہنگی کھاد کے ساتھ کسان کی لاگت کتنی بڑھ جائے گی۔ کسانوں کی خوشحالی کے حکومتی دعووں کے ساتھ حکومت کھاد کی قیمت میں کمی کے کیا اقدامات کررہی ہے۔

پارلیمانی سیکریٹری خوراک و زراعت عامر سلطان نے خواجہ آصف کے سوال کا تفصیلی جواب اگلی باری پر دینے کی حامی بھری جس پر اسپیکر اسد قیصر پر پارلیمانی سیکرٹری نے اگلے اجلاس میں کسان کارڈ کی مکمل تفصیل ایوان میں پیش کرنے کی یقین دہانی کرادی۔ قومی اسمبلی اجلاس پیر کے روزپانچ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More