سانحہ مری کیس: کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، عدالت

اسلام آباد: لاہورہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں سانحہ مری کیس کی سماعت، جسٹس عبدالعزیزنے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سارا کام واٹس ایپ گروپوں میں چلے گا تو نتائج یہی ہونگے، کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں سانحہِ مری کیس کی سماعت جسٹس چوہدری عبد العزیز نے کی۔ جج نے ایکس ای این ہائے ویز پنجاب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نیشل ہائی وے والوں کو بھی بلائے گی اور اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ سارا کام واٹس ایپ گروپوں میں چلے گا تو نتائج یہی ہونگے۔ جن کے پاس سنو بلور چلانے کا تجربہ نہیں انھیں کیسے اتنی بڑی مشین پر چڑھا دیاگیا۔

مری میں کتنی غیر قانونی عمارات کے حوالے سے عدالت کے استفسار پر سی ای او ضلع کونسل نے بتایا کہ 2019 میں تعمیرات پر پابندی ہٹی تو تعمیرات پر کوئی پابندی نہیں۔ جج کا کہناتھا کہ پابندی ہٹانے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ مری کو راجہ بازار بنا دیں۔ عدالت سانحہ مری کیس اینٹی کرپشن کو بھی بھیجے گی۔ دوران سماعت مری میں تعمیر ہونے والے بڑے مقامی ہوٹل کا حوالے دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ہوٹل کا سن کر تمام انتظامیہ خاموش کیوں ہو جاتی ہے۔ ڈی سی اور اے سی نے رپورٹ بھیجی کہ غیر قانونی ہے اسکو گرایا جائے تو کیوں نہیں گرایا گیا؟۔

مری میں سیوریج سسٹم کے سوال پر سی ای او ضلع کونسل نے بتایا کہ مری میں سیوریج سپٹک ٹینکس میں جاتا ہے۔ اس پر جج نے ریمارکس دیئے کہ کیا پورا مری سپٹک ٹینکس پر چلتا ہے کوئی باقاعدہ سیوریج کا نظام نہیں۔ جسٹس عبدالعزیزنے کہا کہ محکمہ موسمیات کی ایک الرٹ سے کہانی شروع ہوئی جس کے بعد پی ڈی ایم اے ضلعی انتظامیہ سمیت تمام ادارے سوئے رہے اوراتنا بڑا سانحہ ہو گیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More