تازہ ترین
کورونا وائرس اور سسکتا مزدور

کورونا وائرس اور سسکتا مزدور

کورونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچادی ہے،اب تک کی رپورٹ کے مطابق اس وائرس کے باعث تیرہ ہزار سے زائد افراد موت کی وادی میں جاچکے ہیں جبکہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 3 لاکھ 7 ہزار سے زائد تک جاپہنچی ہے، تاہم  مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 95 ہزار 700 سے زائد ہے۔

کورونا وائرس پاکستان میں بھی داخل ہوچکا ہے اور نیشنل انسی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 694 تک جاپہنچی ہے سب سے زیادہ متاثرہ افراد سندھ میں رپورٹ ہوئے ہیں جہاں 292 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں اس کے علاوہ پاکستان میں وائرس کے باعث تین افراد کی ہلاکت بھی رپورٹ ہوچکی ہے۔

کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے سندھ حکومت بڑی تندہی اور جانفشانی سے کام کررہی ہے، مگر عوام کی جانب سے لاپرواہی اور سنگین غفلت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے،کراچی سمیت سندھ بھر میں لوگوں نے دفعہ ایک سو چوالیس کی دھجیاں اڑادی ہیں، صوبائی حکومت کی جانب سے منگل تک لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد عوام کی اکثریت نے اسے محض تفریح کا موقع سمجھ لیا ہے جگہ جگہ مختلف عمر سے تعلق رکھنے والے افراد بغیر حفاظتی اقدامات کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ محو گفتگو ہیں۔

کراچی سمیت صوبے بھر میں کھیلوں کے میدان بھرے پڑے ہیں، مختلف علاقوں میں کرکٹ کے ٹورنامنٹ منعقد  کئے جارہے ہیں جوکہ سراسر کورونا وائرس سے احتیاطی تدابیر کی کھلی خلاف ورزی ہے، سندھ پولیس اپنے محدود وسائل کے باعث ان تمام محرکات کو ختم کرنے کے لئے کوشاں ہیں کئی علاقوں میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کئی ٹورنامنٹ کو بند بھی کرادیاہے مگر عوام کو اس وائرس سے لڑنے کے لئے خود ہی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا۔سندھ حکومت لاک ڈاؤن سے متعلق علمائے کرام سے بھی مشاورت کی اور ان سے بھی اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے، مگر کراچی کی عوام نے تمام ہدایات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔

دوسری جانب صوبائی حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور بری طرح متاثر ہوچکا ہے،مزدور طبقہ بڑی پریشانی کا شکار ہوگیا ہے اور اسے دور تک حالات کی بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں ،میرا آفس شہر کے صنتعتی ایریا میں واقع ہے، جبکہ میری رہائش شاہ فیصل کالونی میں ہے، اپنے آفس سے گھر تک کا سفر میں بیس پچیس منٹ میں طے کرلیتا ہوں اور اس کے لئے سب سے آسان راستہ شاہراہ دارالعلوم کراچی ہے۔

اپنے آفس سے گھر جاتے ہوئے مجھے چار چورنگی کراس کرنا پڑتی ہے، ان چورنگی پر روزانہ کام کرنے والے افراد کی بڑی تعداد اپنے زریعہ معاش ڈھونڈنے کے لئے موجود رہتی ہے مگر کورونا وائرس کے باعث تمام نظام زندگی مفلوج ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں ان افراد کے گھر کو چولہا بھی ٹھنڈا پڑچکا ہے (آگے جو میں سطر لکھنے جارہا ہوں، وہ میرے لئے نہایت مشکل تھی)، ان میں سے اکثر لوگ لوگوں سے لفٹ کے زریعے کچھ امداد دینے کی درخواست کررہے ہیں ، یہ صورت حال بڑی دل کو دکھادینے والی ہے، کل تک اپنے ہاتھوں سے کام کرکے گھر والوں کی کفالت کرنے والے آج دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہیں،ایسی صورت حال میں صوبائی وفاقی حکومت کو ان افراد کے لئے کوئی موثر انتظام کرنا ہوگا۔

Comments are closed.

Scroll To Top