مئی اور جون میں پیٹرول سبسڈی ہم جاری نہیں رکھ سکتے،مفتاح اسماعیل

وفاقی حکومت نے مہنگائی کے خاتمے کو اولین ترجیح دے دی بہتر عوام اور ترقی دوست بجٹ دینے اور روپے کو مستحکم کرنے کا بھی اعلان وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں مئی اور جون میں پیٹرول سبسڈی کا96 ارب روپے تک کا خرچہ ہے جسے ہم جاری نہیں رکھ سکتے وزیراعظم کی ہدایت پر یوریا کھاد اور گندم کی سملکنگ پر تحقیقاتی کمشین بنانے کافیصلہ مریم اوزنگزیب بولیں پچھلے چار سال سے معاشی دہشت گردی کی گئی۔

اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عمران خان بارودی سرنگ لگاکر گئے ڈیزل اور پیٹرول پر ٹیکس نہیں لیا اس حکومت کو مشکل میں ڈالا ہے پیٹرول سستا کرنا کوئی مہربانی نہیں ہوتی۔ کہا عمران خان نے 4 سال میں 20 ہزار ارب سے زائد قرض لیا پانچ ہزار پانچ سو پچھتر ارب روپے کا خسارہ چھوڑ کرگئے ہیں ن لیگ کے دور میں بجٹ خسارہ 1600 ارب روپے تھا، مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عمران خان نے سالانہ قرض 900 فیصد بڑھا دیا، آج ایک کروڑ 35 لاکھ بچے مفلسی میں زندگی گزار رہے ہیں، ایکسپورٹ ضرور بڑھی لیکن مہنگائی بھی بڑھ گئی گیس سیکٹر رکلر ڈیٹ 15سو ارب روپے کا تک پہنچ چکا ہے۔ یوریا ایک لاکھ چالیس ہزار ٹن اسمگل ہوچکا ہے، یوریا کی ایکسپورٹ کی اجازت نہیں ملنی چاہیے تھی تحقیقات کریں گے کہ اس اسمگلنگ میں کون کون ملوث ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مہنگائی کا خاتمہ کابینہ کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم شہبازشریف مہنگائی سے ریلیف دینے پرکام کررہے ہیں،پچھلے 4 سال سے معاشی دہشت گردی کی گئی، معاشی دہشتگردی سے عوام کے چولہوں پر اثر پڑا، وفاقی وزیراطلاعات ونشریات کا کہنا تھا کہ اسٹاپ اور واچ لسٹ کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہیں کیا جائےگا، نیب کے خوف سے 27 پاور پلانٹس پر 4 سال کوئی کام نہیں ہوا ای سی ایل پر کمیٹی بنادی گئی ہے جو قوانین پر 3 دنوں کے اندر کابینہ کو رپورٹ کرےگی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More