مالی سال 23-2022 کا 9 ہزار 500 ارب روپے کا بجٹ پیش

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل مالی سال 23-2022 کا 9 ہزار 500 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا۔ اپنی تقریر کے دوران وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پونے چار سال معاشی بے انتظامی عروج پر تھی، ناتجربہ کار ٹیم نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اصلاحات میں تاخیر سے معیشت کو نقصان پہنچا، روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ معیشت اور ملک کے فائدے کےلیے مشکل فیصلے کرنے کے لیے تیار ہیں، مشکل فیصلوں کی گھڑی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ ہم نے پہلے بھی کیا، کر سکتے ہیں اور کر کے دکھائیں گے۔

وزیر خزانہ کاکہنا تھا کہ کم آمدنی والے طبقے کو مراعات دینی ہوں گی، معاشی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھنی ہوگی، زراعت اور آئی ٹی کی برآمدات بڑھانی ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ تاریخی مہنگائی، زرمبادلہ کی کمی، لوڈشیڈنگ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ سابق حکومت نے 20 ہزار ارب روپے قرض لیا، عمران حکومت نے آمدن سے زیادہ خرچ کیا، تاریخی خسارے کے بجٹ پیش کیے۔

وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دی۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 جبکہ پینشن میں 5 فیصد اضافے کی منظوری دیدی گئی۔خیال رہے کہ سرکاری ملازمین کی پینشن میں اپریل میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔ آئندہ مالی سال کیلئے اخراجات کا تخمینہ 9 ہزار 502 ارب روپے ہے، ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے سے 71 ارب 59 کروڑ کا بوجھ پڑے گا۔

ذرائع کے مطابق بجٹ کے حجم کا تخمینہ تقریباً 10 ہزار ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔وفاق کی مجموعی آمدن کا تخمینہ 9 ہزار 255 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔صوبوں کو 4 ہزار 200 ارب روپے منتقل کرنے کا تخمینہ جبکہ وفاق کی خالص آمدن کا تخمینہ 4 ہزار 700 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ خسارے کا تخمینہ 4 ہزار 800 ارب روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔جاری اخراجات کا تخمینہ تقریباً 9 ہزار 500 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

نئے مالی سال کے بجٹ میں مقامی قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کے لیے 3 ہزار 900 ارب روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔اسی طرح غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 500 ارب روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔پینشن کی ادائیگی کے لیے 550 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ میں دفاع کے لیے ایک ہزار 523 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔گرانٹس کے لیے 580 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز جبکہ حکومتی امور چلانے کے لیے 527 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔سبسڈیز کی مد میں 580 ارب روپے رکھنے کرنے کی سفارش جبکہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کے لیے 800 ارب روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

سابقہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت ریاست پاکستان کے لیے بارودی سرنگ چھوڑ کر گئی، 2018 سے 2022 کے دوران روپے کی قدر میں 61 فیصد کمی آئی۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بالخصوص غریب عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینا چاہتے ہیں، زیادہ آمدن والوں پر ٹیکس لگانا ہی راستہ ہے، ایسی اشیا پر ٹیکس لگائیں گے جو غریب کم سے کم استعمال کرتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ محصولات میں چوری ختم کر کے اضافی وصولی، ٹیکس کی لیکج یا چوری 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، وزیراعظم ٹیکس چوری کم کرنے کے لیے ٹاسک فورس بنا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کفایت شعاری کے عملی اقدامات کرنے جارہی ہے، پنشن فنڈ قائم کرنے کے لیے 10 ارب روپے کی رقم جاری کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ تجارتی توازان عمل میں لاکر ڈالر کی قیمت مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ 10 ہزار مزید طلبا کو بےنظیر انڈر گریجویٹ اسکالر شپس دی جائیں گی۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 65 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ایچ ای سی کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 44 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں بھی یونیورسٹی بنانے کا آغاز ہوگا، ایک لاکھ لیپ ٹاپ آسان اقساط پر مہیا کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ فصلوں اور مویشیوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے 21 ارب مختص کیے گئے ہیں۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ سندھ بلوچستان کے چھوٹی ماہی گیروں کے لیے پورٹ کلیرنس کی شرط ختم کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض اسکیم شروع کی جائے گی، انڈسٹریل فیڈرز لوڈشیڈنگ سے مستثنا ہوں گے۔ اب تک ملک میں ایک بھی اسپیشل اکنامک زون فعال نہیں ہے۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ رقم بلوچستان کی ترقی پر خرچ کی جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی ایس ڈی پی میں صوبوں، گلگت بلتستان کے لیے 126 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، انفرا اسٹرکچر کی ترقی کے لیے 395 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More