ایم کیو ایم کا بلدیاتی قانون کے خلاف دھرنا ختم

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ، تحریک انصاف سمیت سندھ میں دیگر اپوزیشن کی جماعتوں نے بلدیاتی قانون کے خلاف دھرنا ختم کردیا۔

کراچی میں فوارہ چوک پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بلدیاتی قانون کے خلاف مشترکہ احتجاج کیا، اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ، خرم شیر زمان، نصرت سحر عباسی، خواجہ اظہار، ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنونیئر عامر خان سمیت دیگر نے احتجاجی شرکا سے خطاب کیا۔

ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد میں شامل ساری جماعتیں، پی ٹی آئی، مسلم لیگ فنکشنل بھی ہمارے ساتھ بلدیاتی قانون کے خلاف دھرنے میں بیٹھیں گی اور ہم اُس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک سندھ حکومت متنازع قانون کو منسوخ نہیں کرتی یا اسے واپس نہیں لے لیتی۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار کا کہنا تھا کہ اگرنیا بلدیاتی قانون اتنا اچھا قانون ہے تو وزیراعلیٰ سندھ ہمیں سیہون کے دورے پر بلا لیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ظالم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو حکومت شوشا چھوڑتی ہے کہ ایم کیو ایم لسانیت کی سیاست کرتی ہے، پی پی ظالم اور جابر ہے ان کا اقتدار اور ظلم اب ختم ہونے والا ہے۔

اپوزیشن رہنما نے کہا کہ سندھ حکومت کا تنخواہ دار شخص کہتا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں15 سو لوگ نہیں لاسکتیں، وہ آکر دیکھ لے کہ یہاں 15ہزار سے زیادہ لوگ جمع ہیں اور یہ مجمع کسی کی کرپشن بچانے یا مقدمات ختم کرانے کے لیے جمع نہیں ہوا۔

خواجہ اظہار نے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ناصر شاہ 10سال گزرگئے، وہ 10 ہزار بسیں کہاں ہیں

پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کا نیا بلدیاتی قانون ہی کالا نہیں ان کا منہ بھی کالا ہے۔ ابھی تو پارٹی شروع ہوگئی ہے، یہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کی گندم کھانے والوں چوہوں کو پکڑنے کے لیے پنجرے لگا لیے، کالے قانون کیخلاف گھوٹکی سے کراچی تک مارچ ہوگا۔ سندھ کے حکمران مافیاز ہیں، سندھ کے حکمران گندم کے ساتھ ساتھ کھاد اور ویکسین بھی کھاتے ہیں، سندھ کے حکمران آئین توڑنے والے حکمران ہیں۔ ہم علی بابا اور چالیس چوروں کے خلاف نکلے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More