ثاقب نثار کی آڈیو لیکس نے عدالتوں کی خودمختاری پر سوالات اٹھادئے ہیں، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: پی ڈی ایم کا سربراہ اجلاس اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں تمام رکن جماعتوں کے سربراہان اور ان کے نمائندگان شریک ہوئے، چند قائدین نے ویڈیو لنک کے ذریعہ شرکت کی۔

پی ڈی ایم سربراہ اجلاس میں لانگ مارچ کی تاریخ اور اسمبلیوں سے استعفوں پر فیصلہ نہ ہوسکا۔تاہم پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے الیکٹرونک ووٹنگ مشین کومستردکردیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 6دسمبر کو پھر اجلاس ہوگا جس میں اہم فیصلے ہوں گے، مشترکہ اجلاس میں ہونے والی قانون سازی مسترد کرتے ہیں، عدالتوں کو اپنا وقار خود بحال کرنا ہوگا۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں خلاف آئین قانون سازی کی گئی جس کو مسترد کرتے ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کو بھونڈے طریقے سے ووٹ کے حق کی قانون سازی کی گئی، انہیں پارلیمان میں باعزت نمائندگی کے لئے ہم مشاورت کررہے ہیں، آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کے اختیارات پر قدغن نہیں لگائی جاسکتی، ای وی ایم پری پول دھاندلی ہے۔

انہوں نے کہا سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی حالیہ آڈیو لیکس اور رانا شمیم کے بیان حلفی نے عدالتوں کی آزادی اور خودمختاری پر سوالات اٹھادئے ہیں،عدلیہ کو اپنا وقار بحال کرنا ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ا سٹیٹ بنک کو آئی ایم ایف کی برانچ بنایا جارہا ہے، تمام جماعتیں اپنی اپنی مجلس عاملہ سے لانگ مارچ اور استعفوں کے فیصلوں پر رائے لیں گی جس کے بعد چھ دسمبر کو سربراہی اجلاس ہوگا جس میں فیصلوں کا اعلان کیا جائے گا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More