بھارت میں قومی سلامتی کانفرنس برائے افغانستان میں شرکت نہیں کرونگا،معید یوسف

اسلام آباد: مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ بھارت میں قومی سلامتی کانفرنس برائے افغانستان میں شرکت نہیں کرونگا۔ سپائلر پیس میکر کا کام نہیں کر سکتا، ہندوستان خود کو درست کرے تو بات ہو سکتی ہے،ہمارے پاس افغانستان سے رابطہ توڑنے کا کوئی آپشن نہیں ۔

مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ سی پیک کا ایک پورا منصوبہ جاری ہے وزیر اعظم کے ویژن کے مطابق پاکستان خود کو جیو اکنامک پیراڈائم کی طرف لے جا رہا ہے۔ ازبکستان کے مشیر قومی سلامتی تین روزہ دورے پر پاکستان آئے ہیں اور آج دونوں ملکوں کے درمیان قومی سلامتی کے حوالے سے مشترکہ پروٹوکول پر دستخط کئے گئے ہیں۔ افغانستان پر پاکستان اور ازبکستان کا مؤقف ایک ہے دونوں ملک افغانستان پر تعمیری بات چیت چاہتے ہیں ۔

معید یوسف نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے سب سے بڑے شکار رہے ہیں ہماری سلامتی کیلئے افغانستان میں امن ضروری ہے ہمارے پاس افغانستان سے رابطہ منقطع کرنے کا کوئی آپشن نہیں افغانستان میں امن سے وہ باہمی منسلکہ راہداری میں حصہ بن سکتا ہے ۔

مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان ایس سی او فورم پر اکٹھا کام کر رہے ہیں ازبکستان کے ساتھ اچھے دفاعی تعلقات ہیں قومی سلامتی پروٹوکول میں انسداد منشیات پر کام کریں گے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن اس معاہدے کی اساس ہو گی اور سابقہ معاہدوں کو بھی لیکر چلیں گے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ ازبک مشیر قومی سلامتی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے جبکہ وہ جی ایچ کیو کا بھی دورہ کریں گے۔ کل ازبک مشیر قومی سلامتی طورخم سرحد اور پی ایم اے کا دورہ کریں گے۔

معید یوسف نے کہا کہ بھارت کی طرف سے افغانستان پر بلائی گئی مشیر قومی سلامتی کانفرنس میں نہیں جاوں گا کیونکہ ایک سپائلر پیس میکر کا کام نہیں کر سکتا۔ بھارت اگر خود کو درست کر لے تو بات چیت ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے دشمنوں کی کمی نہیں تاہم ہم نے اپنے اہداف حاصل کرنے ہیں۔ پاک امریکہ فضائی راہداری معاملہ پر ابھی بات نہیں کر سکتا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More