کلبھوشن سے متعلق بل پاس نہیں ہوتا تو بھارت عالمی عدالت چلا جاتا، شہزاد اکبر

اسلام آباد: وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ براڈ شیٹ تحقیقات میں شامل تفتیش ہونے پر نیب کو تحفظات تھے تاہم اب کارروائی ہونے جا رہی ہے۔

اسلام آباد میں معاون خصوصی احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری بھی ان کے ہمراہ تھے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ براڈ شیٹ تحقیقات میں شامل تفتیش ہونے پر نیب کو تحفظات تھے۔ نیب کو بتایا گیا کہ براڈ شیٹ تحقیقات کابینہ کا فیصلہ ہے۔اب براڈ شیٹ معاملے پر کارروائی ہونے جارہی ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ نوازشریف کی حوالگی کیلئے برطانیہ کو درخواست دینا 10 سال تک ٹرک کی بتی کے پیچھے لگنے جیسا تھا۔ نوازشریف کو برطانوی قوانین کے تحت بے دخل کرانے کیلئے تین خطوط لکھے۔ برطانوی ہوم ڈیپارٹمنٹ کو بتایا نواز شریف کے وزٹ ویزہ میں توسیع نہیں ہو سکتی۔ برطانیہ سے ملزمان کی حوالگی کے نئے معاہدے پر ڈرافٹ تیار ہے۔

شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ رانا شمیم کے بیان حلفی میں حقائق ہی درست نہیں ہیں۔ ن لیگ صرف مظلومیت کا بیانیہ بچا رہی ہے۔ اسحاق ڈار کی حد تک حدیبیہ کیس کھولنے کا ابھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔

شہزاد اکبر نے صحافیوں کو بتایا کہ کلبھوشن کے معاملے پر عالمی عدالت کا دائرہ اختیار نہیں ماننا تھا تاہم اب مان لیا تو فیصلے پر عمل کرنا ہو گا۔ کلبھوشن سے متعلق بل سزا پر عملدرآمد کا راستہ ہے کلبھوشن کو نکالنے کا راستہ نہیں۔ کلبھوشن سے متعلق بل ناکام ہوتا تو بھارت فوری دوبارہ عالمی عدالت چلا جاتا۔ بھارت نقطہ اٹھا سکتا تھا پاکستان میں کلبھوشن کو اپیل کا راستہ بند ہو گیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More