کورونا وبا کے دوران 2.6 ارب ڈالر کی بیرونی امداد ملی، وزارت خزانہ

اسلام آباد: وزارت خزانہ کی جانب سے پبلک اکاونٹس کمیٹی کو کورونا ریلیف پیکیج پر بریفنگ دی گئی ۔ کمیٹی نے کورونا کی مد میں ملنے والے بیرونی فنڈز کی تفصیلات طلب کر لیں۔

پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ہوا ۔وزارت خزانہ کی جانب سے 1240 ارب روپے کے کورونا ریلیف پیکیج پر بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ سال 2019-20 میں کورونا ریلیف کی مد میں 334 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ سال 2020-21 میں 187.89 ارب روپے کے اخراجات ہوئے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ کورونا کی ویکسین کی خریداری پر 352 ارب روپے خرچ ہوئے ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ کورونا کے دوران بجٹ سپورٹ کیلئے 2.6 ارب ڈالر کے بیرونی فنڈز ملے ۔چیئر مین پی اے سی نے کورونا کی مد میں ملنے والے بیرونی فنڈز تفصیلات طلب کرتےہوئے کہا کہ کورونا کے نام پر باہر سے کتنے فنڈز خرچ کیے گئے ۔

رکن کمیٹی حنا ربانی کھر نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے 500 ارب روپے میں سے کتنے فنڈز خرچ ہوئے ۔چیئر مین رانا تنویر حسین نے کہا کہ یوٹیلٹی اسٹورز اور ایف بی آر کو بھی کورونا فنڈز دیئے گئے۔حکومت کی طرف سے سب اچھا کا تاثر دیا جارہا ہے۔

رکن کمیٹی خواجہ آصف نے کہا کہ عبدالرزاق داود، چیئرمین ایف بی آر سمیت معتبر لوگ ملک کے دیوالیہ ہونے کی باتیں کر رہے ہیں ۔وزارت خزانہ ہمیں گمراہ کرنے کے بجائے فنڈز کی اصل تصویر پیش کرے۔ وزارت خزانہ کے حکام نےبتایا کہ این ڈی ایم اے کو مارچ2020 سے دسمبر 2021 تک 168 ارب روپے ملے ۔

چیئر مین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ انسدادِ کورونا کے لیے 144ارب روپے خرچ کیے17 ارب 40 کروڑ روپے کا فنڈ دستیاب ہے ۔انہوں نے بتایاکہ چین نے انسداد کورونا کے لیے 40لاکھ ڈالر کی گرانٹ دی ہے ۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More