مولانا اور شہباز کی عمران خان کو زبان قابو میں رکھنے کی تنبیہ

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے عمران خان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی زبان کو قابو میں رکھیں ورنہ انہیں قابو کرنا آتا ہے۔ بداخلاقی کرنے اور گالیاں دینے والے شخص کو وزیراعظم نہیں ہونا چاہیے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان جو زبان استعمال کررہے ہیں اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ وہ نواز شریف کو بھگوڑا کہہ رہے ہیں حالاں کہ وہ عنقریب خود بھگوڑا ہونے والے ہیں۔ عمران خان نیازی الیکشن میں دھاندلی کی پیداور ہیں۔ عمران خان کہتے ہیں کہ شہباز شریف بوٹ پالش کرتے ہیں حالاں کہ وہ خود اسٹیبلشمنٹ کے لائے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں بوٹ پالش نہیں کرتا جب مشرف نے ہماری حکومت گرائی تو میں خود بھی اٹک جیل میں تھا اگر بوٹ پالش کرنے والا ہوتا تو جیلوں میں نہ جاتا۔ عمران خان اپنی زبان قابو میں رکھو ورنہ ہمیں قابو کرنا آتا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے بہت بردباری کا مظاہرہ کیا حالاں کہ جے یو آئی کے ایم این ایز کے ساتھ ظلم کا مظاہرہ کیا گیا۔ تم ڈی چوک آؤ، ہم تمہارا بھرپور مقابلہ کریں گے اور تمہیں ناکوں چنے چبوادیں گے۔میں پہلے عمران خان کی باتوں کا جواب نہیں دیتا تھا لیکن آج دیا ہے تاہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان کی کیفیت خراب ہوچکی ہے۔ اس کے حواس اڑچکے ہیں۔ شرافت عمران خان میں پیدائشی طور پر نہیں تھی پتا نہیں کہاں سے یہ قوم کے گلے پڑ گئے لیکن اب قوم کی نجات کے دن قریب آگئے ہیں۔ ہم نے کال دی تو ایک گھنٹے میں پورا ملک جام ہوگیا۔عمران خان سن لو ہم تمہیں جام کرنا جانتے ہیں۔ تم نام بگاڑتے ہو۔بداخلاقی کرتے ہو ، تمہاری زبان بتارہی ہے کہ تم وزیراعظم بننے کے اہل نہیں۔ تمہیں وزیراعظم بنانا اس منصب کی بے توقیری ہے۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ الیکشن کمیشن نوٹس لے وزیراعظم کس طرح عوام میں تقاریر کررہا ہے۔ عمران خان کو لگام دی جائے پاکستان اب مزید اس طرح کے لوگوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ہمارے پاس اکثریت موجود ہے۔ آپ کے پاس ہے تو سیاسی جنگ لڑیں۔ عدم اعتماد کی تقاریر آتی ہیں تم حواس باختہ کیوں ہوگئے؟۔ اور گالیاں کیوں دیتے ہو؟ اس سطح کے انسان کو حکمران نہیں ہونا چاہیے۔

جنرل باجوہ کی جانب سے عمران خان کو ڈیزل کہنے سے منع کرنے کے سوال پر فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے ایسی کسی بات کا علم نہیں۔ آپ جانتے ہیں میں کس سطح کی سیاست کرتا ہوں۔ میں ہمیشہ خیال رکھتا ہوں کہ اپنے کام سے کام رکھوں اور سول اور ملٹری بیورو کریسی کو الگ الگ رکھوں۔ دونوں ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ عمران خان کو وارننگ دے رہے ہیں کہ اپنی زبان ٹھیک کرلے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More