بجلی بنانے کیلئے مقامی وسائل کو استعمال کیا جائے،وفاقی کابینہ

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کو بتایا گیا ہے کہ پچھلے چار سال میں بجلی کے کئی اہم منصوبے شروع نہیں ہوسکے جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے بجلی بنانے کیلئے امپورٹڈ ایندھن کے بجائے مقامی وسائل کو استعمال کیا جائے وفاقی کابینہ نے ایجنڈے کے تمام نکات کی منظوری دے دی ۔

وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد حکومتی ٹیم کی میڈیا کوبریفنگ،وفاقی وزیراطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کابینہ فیصلوں بارے بتایا کہ کابینہ نے ایجنڈے کے تمام نکات کی منظوری دے دی ہے اجلاس میں پاورڈویژن نے لوڈ شیڈنگ پر تفصیلی بریفنگ دی انہوں نے بتایا کہ پچھلے چار سال کے دوران کئی اہم منصوبے شروع نہیں ہو سکے، اسی وجہ سے آج ہماری بجلی کی پیداوار متاثر ہے انہوں نے بتایاکہ کابینہ ڈویژن کی سفارش پر کابینہ کمیٹی برائے پرائیوٹائزیشن کے 24 جون 2022ء کے منعقدہ اجلاسوں میں کئے گئے ۔

وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر قمر زمان کائرہ کے مطابق مطابق پنجاب تھرمل منصوبہ 26 ماہ کی تاخیر کا شکار رہا، تھر انرجی 17، تھل نووا بیس شنگھائی الیکٹرک پاور میں60 ماہ کا تعطل آیا اور کروٹ 10 ماہ کے تعطل کا شکار ہوا۔کابینہ ڈویژن کی سفارش پرسکیورٹیز اینڈایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ایکسٹرنل آڈیٹر کی منظوری دی جبکہ کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر پانچ لوگوں کے نام ای سی ایل سے ہٹانے کی منظوری دی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر کیبنٹ کمیٹی آن لیجسلیٹو کیسز کے 29 جون 2022ء کو منعقدہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی ۔

وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان کی طرف سے ایسا بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اتحادی جماعتیں اپنے خلاف کیسز ختم کروانے کے لئے نیب ترامیم کر رہی ہیں پچھلے چار سال جھوٹ اور الزامات پر مبنی کیسز قائم کئے گئے انہوں نے جتنے الزامات لگائے وہ عدالت میں بھی ثابت نہیں کر سکے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More