مریم اورنگزیب نے عمران خان کی کال کو گیڈر بھبھکی قرار دیدیا

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی کال کو گیڈر بھبھکی قرار دے دیا کہتی ہیں عمران خان کان کھول کر سن لیں الیکش 2023 میں ہوں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ عمران خان کے کان نہیں کھلے، عمران خان کان کھول کر سن لیں الیکشن 2023ء میں ہوں گے، سیلاب میں ڈوبے ہوئے ملک کی حالت دیکھیں جبکہ عمران خان اپنی زہریلی انا میں ڈوبے ہوئے ہیں، عمران صاحب لاڈلا بن کر زور زبردستی کی آپ کو عادت ہو گئی ہے، عادت بدل لیں، وقت بدل چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کو ہاتھ میں لیا تو قانون حرکت میں آئے گا، پھر آپ چیخیں گے، روئیں گے اور پیٹیں گے، عمران خان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ چکا ہے، مسئلہ صرف یہ ہے کہ عمران خان اور اہل وعیال کی لوٹ مار اور ڈاکے کی پوری حقیقت قانون کے سامنے آ چکی ہے، عوام کو عمران خان کے فارن ایجنٹ ہونے اور خیرات کے پیسے ذاتی خرچ کے لئے استعمال کرنے والے کا پتہ چل چکا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران صاحب عوام سیلاب زندگان کی مدد کی کال پر ایک ہو چکی ہے، آپ کی فتنہ، فساد اور انتشار کی کال پر نہیں آئے گی۔ عمران خان کا وطیرہ ہے کہ کبھی بھی کال دوں گا اور پھر بھاگ جاؤں گا، سیلاب زدگان کی مدد کو نہیں جاؤں گا، اقتدار کے لئے شر، فتنہ اور فساد پھیلاؤں گا، پاکستان کے مفادات، عوام کی زندگی اور ہر ادارے کو اپنی زہریلی انا کی بھینٹ چڑھا دوں گا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ حقیقی آزادی کی تحریک چلانے والا امریکہ میں سی آئی اے کے سابق چیف کے ذریعے اپنے حق میں تحریک چلوا رہا ہے، اربوں روپے فتنہ اور انتشار پر خرچ کرنے والوں کی باتیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ شہدا کے خلاف گھٹیا مہم چلانے والوں کو عوام مسترد کر چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی تضحیک، عدالتوں کو دھمکی لگانے والے کی کال پر عوام نہیں آتی۔ شہدا کے خلاف مہم چلانے۔ ملک کو سری لنکا بنانے کی سازش کرنے والے کی کال عوام نہیں سنتی۔ عمران خان سیلاب زدگان پر چار آنے لگانے کو تیار نہیں جبکہ ذاتی تشہیر کے لئے جلسوں پر کروڑوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت تباہ کرنے والا عمران خان نہیں چاہتا کہ سیلاب زدگان اپنے گھروں میں بحال ہوں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More