جنسی زیادتی کے مجرم کو نامرد بنانا غیر اسلامی قرار

اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل نے جنسی زیادتی کے مجرم کی آختہ کاری یعنی نامرد بنانے کے قانون کو غیر اسلامی قرار دیدتے ہوئے اس کی جگہ متبادل مؤثر سزائیں تجویز کرنے کی تجویز کردی۔

اسلامی نظریاتی کونسل کا دوروزہ اجلاس چیئر مین ڈاکٹر قبلہ ایاز کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس کے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے دینی مدارس اور عصری تعلیمی ادارے میں اخلاقی حوالے سے واقعات پر اظہار تشویش کیا۔ کونسل نے دینی و عصری تعلیمی اداروں میں اخلاقی اقدار کی بحالی کے لیے خطوط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

کونسل نے تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے انسداد سے متعلق قومی تعلیمی کانفرنس بلانے کی تجویز بھِی دیدی۔ کونسل نے جنسی زیادتی کے مجرم کی آختہ کاری یعنی نامرد بنانے کے قانون کو غیر اسلامی قراردیتے ہوئے اس کی جگہ متبادل مؤثر سزائیں تجویز کی جائیں، اسلامی نظریاتی کونسل کی تجویز دی۔

کونسل نے رویت ہلال پر قانون سازی کے بل اور تعلیمی اداروں میں عربی لازم کرنے کے بل 2020 کی تائید کی۔ کونسل نے ثانوی تعلیمی اداروں میں اختیاری مضمون فارسی ، ترکی اور چینی زبان کو شامل کرنے کی تجویز دی جبکہ کونسل نے رحمۃ للعالمین اتھارٹی کے قیام کو ایک مستحسن قدم قرار دیدیا اور وزیر اعظم پاکستان کے اس اقدام کو دور رس مثبت نتائج کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے ملتان میں عید میلاد النبیﷺ کے دوران جلوس میں حورِ جنت کے نام پر کئے جانے والے عمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دینے اور ایسی حرکتوں کے انسداد کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More