مدینہ مسجد کیس، سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے 13 جنوری تک رپورٹ طلب کرلی

کراچی: سپریم کورٹ نے مدینہ مسجد سے متعلق کیس میں سندھ حکومت سے 13 جنوری تک تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں طارق روڈ پر مدینہ مسجد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت مسجد کے انہدام کے فیصلہ پر نظر ثانی کرے، عدالت کے سامنے تمام حقائق نہیں رکھے گئے یہ معاملہ کمرشلائزیشن کا نہیں ہے اس لیے معاملہ کو دوبارہ ریکھا جائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تو حکومت کوئی دوسری جگہ دے دے، ہم صرف اتنا ریلیف دے سکتے ہیں کہ حکومت کو متبادل جگہ فراہمی کا کہہ دیں۔

جسٹس قاضی امین نے مزید ریمارکس دیئے کہ زمینوں پر قبضہ کیلئے مذہب کا استعمال ہورہا ہےہمیں اب کچھ کرنا پڑے گا مذہب کو غلط استعمال روکنا ضروری ہے آپ حکومت میں ہیں اس لیے کارروائی نہیں کرتے کیا غیرقانونی تعمیر شدہ مسجد میں نماز پڑھنی چاہئے۔

کمرے عدالت میں مسجد نے موقف اختیار کیا ہمیں تمام قانونی تقاضے پورے کرنے پر تعمیرات کی اجازت ملی اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ آئندہ سماعت تک انہدام روکنے کا حکم دیا جائے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر اسٹے دے دیا تو بہت گڑبڑ ہوجائے گی ہم اس طرح اپنا حکم واپس نہیں لے سکتے آپ جیسے چاہیں مینیج کریں ہم اسٹے نہیں دے سکتے۔

اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کردی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پارک کی زمین سے تیرہ دکانیں، مدرسہ کے خلاف کارروائی مکمل کرلی پارک کی زمین پر دلکشاں کلب اور چار رہائشی یونٹس بھی مسمار کردیئے پارک کی بحالی کیلئے کے ایم سی کو مراسلہ بھیج دیا گیا ۔

سپریم کورٹ نے مسجد سے متعلق کیس میں سندھ حکومت سے 13 جنوری تک تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More