لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کو طلب کرلیا

لاہور ہائیکورٹ نے قرآن پاک اور دیگر مذہبی کتب کے متعلق سوشل میڈیا سے غیر مصدقہ مواد نہ ہٹانے کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب کو طلب کرلیا۔ عدالت نے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے اور ڈی جی ایف آئی اے کی عدم پیشی پر اظہار برہمی بھی کیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے قرآن پاک اور دیگر مذہبی کتب کے متعلق سوشل میڈیا سے غیرمصدقہ مواد نہ ہٹانے کے معاملے پر حسن معاویہ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواستگزار نے موقف اپنایا کہ عدالت نے پانچ مارچ دو ہزار انیس کو اپنے فیصلے میں قران پاک اور مذہب کے بارے میں ویب سائٹ،سوشل میڈیا سمیت دیگر پورٹل سے غیر مصدقہ مواد ہٹانے کا حکم دیا مگر غیرتصدیق شدہ مواد نہیں ہٹایا گیا۔

دوران سماعت ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم بابر بخت قریشی،ڈی پی او جھنگ بلال احمد سمیت دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے جبکہ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے اور ڈی جی ایف آئی اے کے پیش نہ ہونے پر جسٹس شجاعت علی نے اظہار برہمی کیا۔ عدالت نے ڈی پی او جھنگ سے مکالمہ کیا کہ عدالتی حکم پر عمل نہ ہونے پر کیوں نہ آپ کو سزا دے دیں۔ قران پاک کے ترجمہ سے متعلق ہم سب کا معاملہ ہے۔ پولیس کا جو حال ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔

لاء افسر کے بیان پر جسٹس شجاعت علی خان نے ریمارکس دئیے کہ عدالت کو کسی رپورٹ کی ضرورت نہیں،عدالتی حکم پر عمل چاہئیے کیوں نہ وزیراعلی کو بُلا لیں،ان سے پوچھتے ہیں کہ چیف ایگزیکٹو کا اس بارے میں کیا موقف ہے اگر وہ اس بارے میں کچھ نہیں کرنا چاہتے تو درخواست واپس لے لی جائے۔ عدالت نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو آٹھ نومبر کو طلب کرلیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More