قومی لیڈروں کو عدالتی فیصلوں کا دفاع کرنا چاہيئے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ چوبیس گھنٹے فعال عدالت ہے جس پر کسی کو انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ سپریم کورٹ میں آرٹیکل تریسٹھ اے کی تشریح کے حوالے سے صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا دس سے پندرہ ہزار لوگ جمع کرکے عدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں؟ قومی لیڈروں کو عدالتی فیصلوں کا دفاع کرنا چاہيئے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل تریسٹھ اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔ دوران سماعت بینچ میں شامل جسٹس جمال خان کا کہنا تھا کہ آج کل آسان طریقہ ہے۔ دس ہزار بندے جمع کرو کہو میں نہیں مانتا۔ لوگ چاہتے ہیں انحراف کی اجازت ہو کچھ چاہتے ہیں نہ ہو؟ پارلیمنٹ کو خود ہی آئین میں ترمیم کرنے دیں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ سوشل میڈیا پر موجود مواد کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہم صرف آئین کے محافظ ہیں۔ یہ چوبیس گھنٹے کام کرنے والی عدالت ہے کسی کو انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ بولے؛ دس سے پندرہ ہزار لوگ جمع کرکے عدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں؟ قومی لیڈروں میں اتنی تو ہمت ہونی چاہیئے کہ وہ عدالتی فیصلوں کا دفاع کریں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ دوہزار دس میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل تریسٹھ اے شامل کیا گیا۔ آئین کی خلاف ورزی چھوٹی بات نہیں ہے اور کئی لوگ آئین کی خلاف ورزی پر آرٹیکل چھ پر چلے جاتے ہیں۔ آرٹیکل تریسٹھ اے کی خلاف ورزی پر آرٹیکل چھ کا کیس نہیں بنتا۔ صدارتی ریفرنس کے مطابق منحرف اراکین پر آرٹیکل باسٹھ ون کا اطلاق ہونا چاہیئے۔۔۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ نے تین مرتبہ ترامیم کیں لیکن منحرف اراکین کی نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کی خواہش پر فیصلہ دیا تو کل لوگ تقسیم ہوں گے پارلیمنٹ کے کرنے کا کام ہم سے کیوں کرانا چاہتے ہیں؟ ریفرنس پر سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More