تازہ ترین
بیگم کلثوم نواز کی دوسری برسی آج منائی جارہی ہے

بیگم کلثوم نواز کی دوسری برسی آج منائی جارہی ہے

لاہور:(11 ستمبر 2020) سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ اور تین بار کی خاتون اول کا اعزاز رکھنے والی کلثوم نواز کی دوسری برسی آج منائی جارہی ہے۔بیگم کلثوم نواز نے یکم جولائی 1950ء کو اندورن لاہور کے کشمیری گھرانے میں حفیظ بٹ کے ہاں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم مدرستہ البنات سے حاصل کی، جبکہ میٹرک لیڈی گریفن اسکول سے کیا۔

انہوں نے ایف ایس سی اسلامیہ کالج سے کیا اور اسلامیہ کالج سے ہی 1970ء میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ ادب سے گہرا لگاؤ ہونے کے باعث انہوں نے 1972ء میں فارمین کرسچیئن کالج سے اردو لٹریچر میں بی اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔

انہوں نے اردو شاعری میں جامعہ پنجاب سے ایم اے کیا۔ کلثوم نواز نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔
دو اپریل 1971ء کو بیگم کلثوم کے ہاتھوں میں مہندی اور نواز شریف کے ماتھے پر سہرا سجا اور دونوں نے زندگی کے نئے سفر کا آغاز کیا۔نوازشریف اور بیگم کلثوم نواز کے دو بیٹے حسن اور حسین نواز، جبکہ دو بیٹیاں مریم نواز اور اسماء نواز ہیں۔
نوازشریف کے پہلی مرتبہ 6 نومبر 1990ء کو وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر بیگم کلثوم نواز کو خاتون اول بننے کا اعزاز حاصل ہوا جو 18 جولائی 1993ء تک برقرار رہا۔

وہ 17 فروری 1997ء کو دوسری مرتبہ خاتون اول بنیں۔ 12 اکتوبر 1999ء کو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کا تختہ الٹ دیا اور انہیں بھیج دیا گیا۔نواز شریف سے عہدہ چھینا تو جانثار فصلی بٹیروں نے بھی آشیانے بدل لیے۔ امور خانہ داری نمٹانے والی خاتون بیگم کلثوم نواز کو تنہا اپنے شوہر کے حق میں آواز اٹھانا پڑی۔ انہوں نے نہ صرف شوہر کی رہائی کیلئے عدالت سے رجوع کیا بلکہ مسلم لیگ (ن) کی ڈوبتی کشتی کو بھی سہارا دیا۔

مرحومہ نے 1999ء میں مسلم لیگ (ن) کی پارٹی کی قیادت سنبھالی، لیگی کارکنوں کو متحرک کیا اور جابر آمر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئیں۔ وہ 2002ء میں پارٹی قیادت سے الگ ہو گئیں۔

جون 2013ء میں انہیں تیسری مرتبہ خاتون اول ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جو صرف 28 جولائی 2017ء تک ہی رہ سکا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر نوازشریف کو نہ صرف وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ انہیں این اے 120 سے ڈی سیٹ کردیا گیا۔ستائیس جولائی کے عدالتی فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نااہل ہوچکے تھے،این اے ایک سو بیس میں ضمنی انتخاب کا نقارہ بچ چکا تھا جبکہ (ن) لیگ کی صدارت کیلئے سبھی حلقوں میں کلثوم نواز کا نام لیا جارہا تھا۔ سترہ اگست دو ہزار سترہ کو اچانک خبر آئی کہ بیگم کلثوم نواز بیماری کے باعث پی آئی اے کی پرواز پی کے سات پانچ سات سے لندن روانہ ہوگئی۔لندن پہنچنے کے چھ دن بعد بائیس اگست دو ہزار سترہ کو کلثوم نواز کے گلے کے کینسرکی تشخیص کی گئی ، ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ کینسر ابتدائی اسٹیج پر ہے اور علاج ممکن ہے،بیگم کلثوم نواز لندن میں کینسر سے لڑ رہی تھیں اور ان کی بیٹی مریم نواز آبائی نشست پر ان کی الیکشن مہم چلارہی تھیں،سترہ ستمبر کو ضمنی انتخاب میں بیگم کلثوم نواز فاتح قرار پائیں، لیکن وہ حلف بھی نہ لے سکیں۔بیگم کلثوم نواز کی کینسر کے خلاف جنگ ایسی چھڑی کہ موت تک جاری رہی، ہارلے اسٹریٹ لندن میں اکتیس اگست دوہزار سترہ کو پہلی جبکہ نو ستمبر دوہزار سترہ کو دوسری سرجری کی گئی،ان موقعوں پر نواز شریف بھی موجود تھے،اکیس ستمبر دو ہزار سترہ کو ہونیوالی تیسری سرجری کو کامیاب قرار دے کر بیگم کلثوم نواز کو ان کے بیٹے حسن نواز کے فلیٹ پر منتقل کردیا گیا۔ستائس ستمبر دوہزار سترہ کو بیگم کلثوم نواز کی حالت بگڑنے پر انہیں ہارلے اسٹریٹ کلینک دوبارہ داخل کروادیا گیا،اور پھر کیمو تھراپی کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے بیگم کلثوم نواز کو بستر کے ساتھ چپکا دیا۔

گیارہ اکتوبر دوہزار سترہ کو پہلی کیموتھراپی کی گئی، دوسری یکم نومبر، تیسری نومبر کے آخری ہفتے، چوتھی بائیس دسمبر، پانچویں نو جنوری دوہزار اٹھارہ جبکہ چھٹی اور آخری کیمو تھراپی فروری دو ہزار اٹھارہ میں کی گئی،فرق نہ پڑنے پر انیس اپریل کو ریڈیو تھراپی کرنا پڑی۔

بائیس اپریل دو ہزار اٹھارہ کو خبر ملی کے کینسر پورے جسم میں پھیل گیا ،پندرہ جون دوہزار اٹھارہ کو بیگم کلثوم نواز کو ہارٹ اٹیک کے بعد انتہائی نگہداشت وارڈ منتقل کر دیا گیاجبکہ تین جولائی دوہزار اٹھارہ کو پھیپھڑوں کا آپریشن بھی کرنا پڑا، جس کے بعد انکی طبعیت بگڑتی چلی گئی،اور انہیں وینٹی لیٹر پر شفٹ کیا گیا۔اور آخر کار بیگم کلثوم نواز لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں ایک سال پچیس دن کینسر جیسے موذی مرض سے لڑائی کے بعد گیارہ ستمبر دوہزار اٹھارہ کو ہمت ہار گئیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top