کراچی یونیورسٹی دھماکے میں ملوث دہشت گرد گرفتار

کراچی: صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ کراچی یونیورسٹی دھماکے میں ملوث دہشت گرد کو گرفتار کرلیا، گرفتار دہشت گرد نے کئی انکشافات کئے ہیں۔ 26 اپریل کو کراچی یونیورسٹی میں افسوسناک واقعہ ہوا، کراچی یونیورسٹی میں خاتون نے خودکش حملہ کیا، تمام اداروں نے مل کر واقعہ کی تحقیقات کیں، کالعدم بی ایل اے نےذمہ داری قبول کی تھی۔

وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب اور سی ٹی ڈی حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ دہشت گرد کو ایک کارروائی میں گرفتار کیا گیا، گرفتار دہشت گرد نے کئی انکشافات کئے ہیں، دہشت گرد متعدد وارداتوں میں ملوث ہے۔ گرفتاردہشت گرد سلیپرسیل کا کمانڈرہے، دہشتگرد نے اعتراف کیا کہ ماسٹرمائینڈ زیب ہے، حملے کا ماسٹر مائینڈ پڑوسی ملک سے داخل ہوا۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کہ دہشت گردوں کانیٹ ورک مختلف ممالک تک پھیلا ہوا ہے، دہشتگردآپس میں ٹیلی گرام کے ذریعے رابطہ کرتے تھے۔گرفتاری گزشتہ روز عمل میں آئی ہے، تحقیقات میں غیر ملکی ایجنسی کی مدد نہیں لی۔والدین کو اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہئے، کچھ لوگ ہمارے بچوں کوغلط راہ پرلگانےکی کوشش کرتے ہیں۔

ترجمان سندھ حکومت ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب نے کہا کہ جامعہ کراچی حملے میں شبہ تھا کہ خاتون تنہا نہیں تھی۔کل چار لوگ تھے،ایک نے ماسک لگایا ہوا تھا اس کی شناخت مشکل تھی لیکن ہمارے اداروں نے بڑی محنت سے تحقیق کی۔

انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا سلیپر سیل ٹیلی گرام ایک کے ذریعے آپس میں رابطہ رکھتے تھے،صرف چار لوگ یہاں تھے،دیگر باہر تھے،دہشت گردی میں پڑھے لکھے بچوں کو استعمال کیا جا رہا ہے،صوبائی وزرا کا کہنا تھا کہ کاروائی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شاباش پیش کرتے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More