سپریم کورٹ نے خورشید شاہ پر عائد الزامات کی تفصیل طلب کرلی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب سے پیپلزپارٹی رہنما خورشید شاہ پر عائد الزامات کی تفصیل طلب کر لی۔ جسٹس منصور علی شاہ بولے جاننا چاہتے ہیں کہ نیب نے ریفرنس دائر کرنے کے بجائے خورشید شاہ کو گرفتار کیوں کیا، نیب الزامات سمیت مقدمے کا تمام ریکارڈ پیش کرے۔

رہنما پیپلزپارٹی خورشید شاہ کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثہ جات کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی۔ سپریم کورٹ نے نیب کو خورشید شاہ کی گرفتاری کا بنیادی مواد پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ نیب پروسیکیوٹر نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے اجرا کے بعد سے نیب کے دائرہ اختیار پر مختلف ابہام ہے کلیئرنس کے لیے حکومت نے کمیٹی تشکیل دی ہے عدالت وقت دے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے نیب سے استفسار کیا کہ آپ صرف یہ بتا دیں کہ موجودہ کیس نیب کے دائرہ کار میں ہے یا نہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا سارا مسئلہ پانچ سو چوہتر ایکڑ زمین کی خریداری پر دی گئی رقم کا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جب خورشید شاہ نے زمین خریدی کیا وہ پبلک آفس ہولڈر تھے۔ وکیل درخواست گزار نے کہا جو نیب نے الزامات لگائے وہ ریفرنس کا حصہ نہیں بنائے گئے۔ چیئرمین نیب کی جانب سے خورشید شاہ کی گرفتاری کا کوئی حکم ریکارڈ پر نہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More