نومبر میں وزیراعظم شہباز شریف اہم ادارے کے سربراہ کی تقرری کریں گے، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نومبر میں وزیراعظم شہباز شریف اہم ادارے کے سربراہ کی تقرری کریں گے اس لیے آئینی فریضے کو موضوع بحث بنانے سے گریز کیا جائے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دورہ ازبکستان کامیاب رہا اور وزیر اعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں پاکستان کا مؤقف اٹھایا۔ وزیر اعظم شہبازشریف نے رکن ممالک کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کیں جبکہ چینی اور روسی صدور نے دورے کی دعوت دی۔ شہباز شریف نومبر کے پہلے ہفتے میں چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں سیلابی صورتحال سے متعلق شرکا کو آگاہ کیا اور رکن ممالک نے وزیر اعظم کو تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ چینی صدر نے وزیر اعظم شہباز شریف کو کہا کہ ہم آپ کو عملیت پسندی کی خوبی سے واقف ہیں۔ یوکرین سے متعلق مؤقف پر روس نے پاکستان کی تائید کی جبکہ وزیر اعظم 2 روز بعد جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جائیں گے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ 6 ماہ قبل جب اقتدار سنبھالا تو مشکلات کا شکار تھے اور دنیا آج پاکستان کی مدد کے لیے تیار ہے۔ آئندہ دنوں میں اشیا کی قیمتوں میں کمی دیکھنے کو ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سیلابی صورتحال میں کہیں نظر نہیں آئے۔ سردی آگئی ہے اور سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں جبکہ قحط کی صورتحال کا بھی سامنا ہوسکتا ہے اور ہمیں ممکنہ قحط سے بچنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہو گا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ عمران خان نے ایک ہی رٹ لگا رکھی ہے کہ میرا اقتدار واپس کرو اور اس سے بڑھ کر اور کیا خود غرضی ہوسکتی ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے سے کہا جائے رقم نہ دو۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام جماعتوں سے بات کرنے کو تیار ہیں کیونکہ متنازعہ باتوں سے ادارے اور ملک کا احترام مجروح ہوتا ہے۔ نومبر میں وزیر اعظم شہباز شریف اہم ادارے کے سربراہ کی تقرری کریں گے اس لیے آئینی فریضے کو موضوع بحث بنانے سے گریز کیا جائے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان ہر معاملے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور عمران خان کہتے ہیں نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More