تازہ ترین
تیرہ جولائی انیس سوا کتیس کےکشمیری شہدا کو قوم کا سلام

تیرہ جولائی انیس سوا کتیس کےکشمیری شہدا کو قوم کا سلام

کراچی:(13جولائی 2020)آزاد جموں و کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج 13 جولائی کو یوم شہدائے کشمیر انتہائی عقیدت واحترام اورآزادی ٔکشمیر کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے عزم کی تجدید کے ساتھ منارہے ہیں۔

یوم شہدا ہر سال 13 جولائی 1931 کو برطانوی حکومت میں سرینگر کی سینٹرل جیل کے سامنے فائرنگ سے شہید ہونے والوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

ڈوگرہ مہاراجہ کی فوج نے تیرہ جولائی 1931 کو عبد القدیر نامی نوجوان کے خلاف عدالتی کارروائی کے دوران سرینگر میں سینٹرل جیل کے باہر یکے بعد دیگرے بائیس کشمیریوں کو شہید کردیا تھا، عبدالقدیر نے کشمیری عوام کو ڈوگرہ راج کے خلاف متحد ہونے کو کہا تھا۔

تیرہ جولائی انیس سو اکتیس کو نماز ظہر کے وقت ایک نوجوان نے اذان دینا شروع کی لیکن مہاراجہ کے سپاہیوں نے اس کو فائرنگ کرکے شہید کردیا، اذان دینے کا سلسلہ جاری رہا اور اس عمل کی تکمیل تک بائیس نوجوانوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور تاریخ میں زندہ جاوید ہوگئے۔

اس ایمان افروز واقعہ نے پوری ریاست کشمیر میں آگ لگا دی اور کشمیر میں جدوجہد آزادی کا باقاعدہ آغاز ہوا، اہل کشمیر ہر سال 13 جولائی کو اسی واقعہ کی یاد تازہ کرتے ہیں اور اسے یوم شہدا کے طور پر مناتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں اس دن کے موقع پر آج مکمل ہڑتال کی جارہی ہے، ہڑتال کی اپیل بزرگ حریت رہنما سیّد علی گیلانی، کل جماعتی حریت کانفرنس اور میر واعظ کی زیر قیادت حریت فورم نے کی ہے جس کا مقصد مسئلہ کشمیر کے پُرامن اور منصفانہ حل اور کشمیریوں اور حریت رہنمائوں کے خلاف بھارتی مظالم کا سلسلہ بند کرانے کی فوری ضرورت کا اعادہ کرنا ہے۔

سید علی گیلانی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام آزادی کے حصول تک بھارتی مظالم کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔

میر واعظ عمر فاروق کی زیر قیادت حریت فورم نے کہا کہ تیرہ جولائی انیس سو اکتیس جموں کشمیر کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ہے اس دن جب پہلی مرتبہ کشمیری عوام ظالم اور طالع آزما حکمران کے خلاف مشترکہ طور پر اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

Comments are closed.

Scroll To Top