بھارت کے یوم آزادی پر کشمیری مقبوضہ کشمیر اور دنیا بھر میں یوم سیاہ منا رہے ہیں

آج بھارتی پندرہ اگست کو یوم آزادی منا رہیں ہیں وہیں لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پوری دنیا کے کشمیری اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں تاکہ بھارتی جبر کی مذمت کی جاسکے۔ یوم سیاہ منانے کا مقصد بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے حق خود ارادیت سے انکار کرتا رہا ہے۔

آج بھارت کے یومِ آزادی کو کشمیری یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔ دہائیوں سے دہشت گرد بھارت نے کشمیریوں کی حقیقی آواز کو دبا کر رکھا ہوا ہے، انہیں آزادی سے گھومنے پھرنے، فیصلے کرنے کی اجازت نہیں، ان کے اپنے ہی گھروں کو جیل میں بدل دیا ہے، کشمیریوں نے کبھی بھارت کے قبضے کو تسلیم نہیں کیا وہ دہائیوں سے آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، ہر گذرتے دن کے ساتھ ان کی جدوجہد آزادی میں شدت آتی جا رہی ہے۔ کشمیری صرف اپنی آزادی کے لیے ہی نہیں لڑ رہے بلکہ وہ نام نہاد مہذب دنیا کا دوہرا معیار بھی بے نقاب کر رہے ہیں۔ خصوصاً پانچ اگست دوہزار انیس کے فیصلوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد یہ کہنا مشکل نہیں کہ کشمیر کی تحریک آزادی ایک نئے دور میں داخل ہوئی ہے۔ دو سال سے زائد وقت گذر چکا ہے بھارت نے کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن لگا رکھا ہے لیکن یہ سختیاں بھی کشمیریوں کے ارادوں کو توڑنے میں ناکام رہی ہیں۔ کشمیریوں کا جذبہ حریت کم ہونے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت نریندرا مودی کی قیادت میں خطے کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے۔ یقیناً نریندرا مودی کے فیصلوں سے کشمیر اپنی آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اس یوم سیاہ کے موقع پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل شٹ ڈاؤن ہے۔ اس یوم سیاہ کو آل پارٹیز حریت کانفرنس، میر واعظ عمر فاروق سمیت تمام حریت رہنماؤں اور تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔ یوم سیاہ مناتے ہوئے کشمیری دنیا بھر میں بھارتی سفارت خانوں کے سامنے مظاہرے کریں گے تاکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی بربریت کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائی جائے۔

بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر کشمیر میں ہر جگہ کالے جھنڈے لہرائے جائیں گے جبکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجی ریلیاں بھی نکالی جائیں گی۔ حق اور سچ کو دبانے کے لیے بھارت ہمیشہ کی طرح اوچھے ہتھکنڈوں استعمال کر رہا ہے۔ قابض افواج نے وادی کشمیر بالخصوص سری نگر میں چاروں طرف بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کر کے علاقے کو ایک فوجی چوکی اور ایک بڑے حراستی کیمپ میں تبدیل کردیا ہے۔ درجنوں کشمیریوں کو گرفتار کیا ہے اور بھارت کے یوم آزادی سے قبل سری نگر اور دیگر علاقوں میں پابندیاں سخت کر دی ہیں ان پابندیوں کی وجہ سے پہلے ہی محصور لوگوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بھارتی فورسز، پولیس اور نیم فوجی سنٹرل ریزرو پولیس فورس نے گھروں میں چھاپوں کے دوران درجنوں نوجوانوں کو مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ اہلکاروں نے سرینگر اور مقبوضہ کشمیر کے دیگر حصوں میں گشت ، گاڑیوں کی چیکنگ اور تلاشی کو تیز کردیا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More