تازہ ترین
کارگل جنگ کے ہیرو کرنل شیر خان نشان حیدر کا بیس واں یوم شہادت آج منایا جارہا ہے

کارگل جنگ کے ہیرو کرنل شیر خان نشان حیدر کا بیس واں یوم شہادت آج منایا جارہا ہے

اسلام آباد: (5 جولائی 2020) کارگل جنگ کے ہیرو کرنل شیر خان نشان حیدر کا بیس واں یوم شہادت آج منایا جارہا ہے۔ کرنل شیر خان نے انیس سو ننانوے میں بھارت کے خلاف کارگل کا معرکہ لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ دیا۔اپنی بہادری، جوانمردی اورذہانت سے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے۔

آج مادروطن کیلئے داد شجاعت دینے والوں کی لازوال داستانوں میں جرات و بہادری کے ایک اور درخشندہ باب کا اضافہ کرنے والے عظیم سپوت کیپٹن کرنل شیر خان شہید نشان حیدر کا بیسواں یوم شہادت ہے۔ خیبرپختونخوا کے سپوت کرنل شیر خان یکم جنوری 1970ء کو پیدا ہوئے۔کیپٹن کرنل شیر خان نے اکتوبر 1994ء کو بری فوج کی سندھ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، بعد ازاں 12 ناردرن لائٹ انفنٹری میں تعینات ہوئے ۔

کارگل کا محاذ اورگلتری کے برف پوش پہاڑ، 15 سے 17 ہزار فٹ بلند پہاڑوں پرسخت موسمی حالات سے لڑتے اہم تذویراتی مقامات پر 5 فوجی چوکیوں کا قیام ، 7 اور 8 جون کی درمیانی شب ،بھارتی فوج کی ایک بٹالین فوج کے چھپ کرکیے گئے وارکو ناکام بنانے اور 40 بھارتی فوجیوں کو ڈھیر کرنے والے کیپٹن کرنل شیرخان کا غازی سے شہید تک کا سفر سنہرا بھی ہے اور انمول بھی۔

دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والا کیپٹن کرنل شیر خان دشمن کو کھٹک رہا تھا۔ اِسی سوچ کیساتھ بدلے کی آگ میں جلتے دشمن نے بھاری تو پخانے کا استعمال کیا اور کئی اطراف سے کیپٹن کرنل شیر خان کی چوکی پر حملہ کر کے کچھ علاقے پر قبضہ کرلیا۔ قلیل سپاہ کے ساتھ کیپٹن کرنل شیر خان نے پیش قدمی کرکے نہ صرف کھویا علاقہ واگزار کرایا بلکہ دشمن پر تابڑ توڑ حملہ کر دیا تاہم اِسی دوران بھارتی مشین گن کے فائر سے شدید زخمی ہوکر جیتی ہوئی چوکی پر جام شہادت نوش کر گئے۔

کیپٹن کرنل شیر خان شہید برف پوش پہاڑوں پر چٹان حوصلہ کیساتھ دشمن کیلئے قہر الٰہی ثابت ہوئے، ۔ مادر وطن کے تحفظ کی خاطر 5 جولائی 1999ء کو جان قربان کرنے والے اِس عظیم سپوت کو بے مثل جرات و شجاعت پر نشان حیدر سے نواز گیا۔

Comments are closed.

Scroll To Top