کراچی چیمبرآف کامرس کا کےالیکٹرک کے ناکارہ پلانٹس بند کرنے کا مطالبہ

کراچی:چیئرمین کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے کے الیکٹرک کے ناکارہ پاور پلانٹس بندکرنے کا مطالبہ کردیا ۔صدرچیمبر محمد ادریس اور چیئرمین بی ایم جی زبیر موتی والا نے چیئر مین نیپرا کو خط لکھ دیا ہے ۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے نیپرا سے کے الیکٹرک کے ناکارہ پاور پلانٹس بندکرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کو ناکارہ پاور پلانٹس کی لاگت کے اثرات کو منتقل کر دینے سے روکا جائے۔ سی پی پی اے سے سستی بجلی خریدی جائے اور ٹرانسمیشن انفرااسٹرکچر بچھایا جائے۔ ایف سی اے میں اضافہ نہ کیا جائے۔

صدر کراچی چیمبر کے کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ بجلی کے نرخوں کو کم کرنے کے لیے پاور جنریشن کے مرکب کو بھی بہتر کرنا ہوگا۔اگرکے ایکٹرک کے لیے بجلی کی پیداواری لاگت کم کرنا ممکن نہیں تو پھر بیرونی خریداری پر زیادہ انحصار کرنا چاہیئے۔قابل تجدید توانائی پر مبنی مزید پاور پلانٹس تیار کرنے پر توجہ دی جانی چاہیئے۔

خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کو سی پی پی اے سے مزید بجلی خریدنے کے قابل بنانے کیلئے ضروری ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر بھی قائم کرنا ہوگا۔کے الیکٹرک ناکافی ٹرانسمیشن سسٹم کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہے۔

صدر کراچی چیمبر کے خط میں کہا گیا ہے کہ نیپرانے خود نشاندہی کی ہے کہ 2020-21 میں کے الیکٹرک کے اپنے سسٹم کے لئے ایندھن کی اوسط قیمت 12.41روپے فی کلو واٹ تھی۔ سی پی پی اے کی ایندھن کی قیمت 2020-21 میں 3.24 روپے اور 6.06 روپے فی یونٹ کے درمیان تھی۔

خط کے متن میں بتایا گیا ہے کہ صورتحال تشویشناک ہے، کے الیکٹرک کی پیداواری لاگت خریدی گئی بجلی کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ہے۔ملک کی کل بجلی کی پیداوار میں کے الیکٹرک کاحصہ صرف5سے 10 فیصد کے درمیان ہے۔ کے الیکٹرک کی اپنی جنریشن زیادہ تر تھرمل ہونے کے باعث پیداوار دوگنی سے زیادہ مہنگی پڑتی ہے

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے تحت ستمبر 2021 کے لئے 3.454 روپے فی کلو واٹ کا اضافہ بے پناہ ہوگا۔ ایف سی اے میں اضافہ نہ کیا جائے تاہم اگر بہت ضروری ہو تو یہ مستقبل میں ایک روپے فی کلو واٹ تک ہونا چاہیئے ۔ کے الیکٹرک کو ناکارہ پاور پلانٹس کی لاگت کے اثرات کو منتقل کر نے سے روکا جائے۔

کراچی چیمبر کے صدر کے چیئر مین نیپرا کے نام خط میں کہا گیا ہے کہ ڈالر سے منسلک پاور جنریشن سے منتقل ہوکرسولر، ونڈ اور ہائیڈل پاور جنریشن وسائل کو سسٹم میں لانا ہوگا۔تاجر برادری پہلے ہی زائد کاروباری لاگت کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔ بجلی پیداوار کا ایک بڑاجزو ہے، مہنگی بجلی کے ناقابل برداشت بوجھ کوشامل کرنے کیخلاف پر زور درخواست کرتے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More