تازہ ترین
جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار

جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار

اسلام آباد:(19 جون 2020)سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ نے سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کیس کی سماعت کی۔

کیس کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا اور بعد ازاں ایک وقفے کے بعد فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا جب کہ عدالت نے جسٹس قاضی فائز کو جاری شوکاز نوٹس بھی کالعدم قرار دئیے، کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں بتایا کہ ایف بی آر اہلیہ کو سات دن کے اندر نوٹس جاری کرے، ایف بی آر کے نوٹس جج کی سرکاری رہائش گاہ پر ارسال کیے جائیں، ہر پراپرٹی کا الگ سے نوٹس جاری کیا جائے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ایف بی آر حکام فیصلہ کرکے رجسٹرار سپریم کورٹ کو آگاہ کریں، چیئرمین ایف بی آر خود رپورٹ پر دستخط کرکے رجسٹرار کو جمع کرائیں گے، ایف بی آر حکام معاملے پر التوا بھی نہ دیں، اگر قانون کے مطابق کارروائی بنتی ہو تو جوڈیشل کونسل کارروائی کی مجاز ہوگی۔

فیصلے سے قبل  وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے ایف بی آرکی دستاویزسربمہر لفافے میں جمع کرائیں،جس پر جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ابھی اس لفافے کاجائزہ نہیں لیتے ہیں نہ ہی اس پرکوئی آرڈرپاس کریں گے،معززجج کی اہلیہ تمام دستاویزریکارڈ پرلاچکی ہیں۔

درخواست گزارکے وکیل منیراے ملک نے بھی سربمہر لفافے میں دستاویزپیش کرتے ہوئے جواب الجواب دلائل میں کہا کہ سمجھ نہیں آرہا حکومت کا اصل کیس ہے کیا،بد قسمتی سے فروغ نسیم غلط بس میں سوار ہوگئے،حکومت ایف بی آرجانے کے بجائے سپریم جوڈیشل کونسل آگئی۔

منیراے ملک کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا کام صرف حقائق کا تعین کرنا ہے،ایف بی آر اپنا کام کرے،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اپنی اور عدلیہ کی عزت کی خاطرریفرنس چیلنج کیا،چاہتے ہیں عدلیہ ریفرنس کالعدم قرار دے،سپریم جوڈیشل کونسل کےاحکامات اورشوکازنوٹس میں فرق ہے۔

اس موقع پرسندھ بار کونسل کے وکیل رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کولامحدود اختیارات دیئے گئے،یونٹ کے قیام کےلیے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی۔

خیبرپختونخوا بار کونسل کے وکیل افتخار گیلانی نے اپنے دلائل میں کہا کہ حکومتی ریفرنس بے بنیاد اورعدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے،عدالت سے درخواست ہے کہ آئین کا تحفظ کریں۔

فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے ہم اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں،انشااللہ اپنا کام آئین اور قانون کے مطابق کرینگے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ سوال یہ ہے کہ ریفرنس مکمل خارج کردیں، ہمارے لئے یہ بڑا اھم معاملہ ہے، بار کونسل اور بار ایسو سی ایشنز کا عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top