آرٹیکل 69 اپنی جگہ لیکن جو ہوا اسکی مثال نہیں ملتی، چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے بعد ملکی صورتحال پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت ہوئی ۔ صدر مملکت کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 69 آگ کی دیوار ہے ۔ عدالت اس دیوار کو پھلانگ کر پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 69 اپنی جگہ لیکن جو ہوا اس کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ اگر اسے ہونے دیا گیا تو اس کے بہت منفی اثرات ہوسکتےہیں۔

ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے بعد ملکی صورتحال پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔ صدر مملکت کے وکیل بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل کا آغاز کرتے ہوئے آرٹیکل 184 تین کے تحت درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا اور بولے کہ صدر مملکت کے اقدام کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جا سکتا ہے۔

ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق بیرسٹر علی ظفر نے کہا آرٹیکل 69 عدالت اور پارلیمان کے درمیان حد مقرر کرتا ہے۔آرٹیکل 69 آگ کی دیوار ہے ۔ عدالت اس دیوار کو پھلانگ کر پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ ہمارا آئین پارلیمنٹ اورعدلیہ کے درمیان ایک حد قائم کرتا ہے ۔اگر اس حد کو پارکیا جائے تو تباہی ہو گی اور عوام متاثر ہو گی ۔پارلیمنٹ عدالت کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرتی ۔عدالت پارلیمنٹ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جہاں آئین کہ خلاف ورزی ہو وہاں بھی مداخلت نہیں کی جاسکتی؟ ۔جس پر بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ پروسیجر اور آئینی خلاف ورزی میں فرق کرنا پڑے گا ۔ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کیخلاف عدالت سے رجوع پارلیمنٹ میں مداخلت ہے۔اسپیکر کو ہدایات دراصل پارلیمنٹ کو ہدایات دینا ہوگا جوغیرآئینی ہے۔

جسٹس عطا بندیال نے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ آئین کی خلاف ورزی کرےکیاتب بھی مداخلت نہیں ہوسکتی؟۔ علی ظفر کا کہنا تھا کہ کیا غیر آئینی ہے اور کیا نہیں اس پر بعد میں دلائل دوں گا ۔ جسٹس مقبول باقر نے ریٹائرمنٹ پر اداروں میں توازن کی بات کی تھی۔باہمی احترام سے ہی اداروں میں توازن پیدا کیا جا سکتا ہے ۔ پارلیمنٹ کو اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا وزیراعظم کا انتخاب پارلیمانی کارروائی کا حصہ ہوتا ہے؟۔ جس پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 91 کے تحت وزیراعظم کا انتخاب پارلیمانی کارروائی کا حصہ ہے۔ عدالت کو اسپیکر کی رولنگ کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن بولے کیا وزیراعظم کی اسمبلی تحلیل ایڈوائس کا جائزہ لے سکتے ہیں؟ ۔صدر کے وکیل نے بتایا کہ اسمبلی تحلیل ایڈوائس رولنگ کے نتیجے میں ہے تو جائزہ نہیں لیا جاسکتا۔ اسمبلی سے باہر کا جائزہ لے سکتے ہیں مگر پارلیمنٹ کارروائی بنیاد پر نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کا مطلب ہے کہ رولنگ ریورس نہیں کر سکتے جس پر علی ظفر نے کہا جی رولنگ ریورس نہیں ہو سکتی۔ آرٹیکل 5نہ ہو توبھی ہرشہری آئین پر عملدرآمد کا پابند ہے۔جسٹس عطا بندیال کا کہنا تھا کہ درخواست گزاروں کے مطابق آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔یہ کہتے ہیں آئینی خلاف ورزی پر پارلیمانی کارروائی کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ عدالت اختیارات کی آئینی تقسیم کا مکمل احترام کرتی ہے۔

چیف جسٹس نے صدر کے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ آپ کا نکتہ دلچسپ ہے کہ اسپیکر رولنگ غلط ہو توبھی اسے استحقاق ہے۔ رولنگ کے بعد اسمبلی تحلیل کرکے انتخابات کا اعلان کیا گیا۔ عوام کے پاس جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ن لیگ وکیل سے پوچھیں گے عوام کے پاس جانے میں کیا مسئلہ ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ الیکشن میں جانے سےکسی کے حقوق کیسے متاثر ہو رہے ہیں؟ ۔جسٹس مندوخیل نے بھی سوال کیا کہ کیا صدر نے وزیر اعظم سے اسمبلی تڑوانے کی وجہ پوچھی۔ بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ وزیراعظم ایڈوائس کرے تو صدر اسمبلیاں تحلیل کر دیتا ہے۔اسمبلی اس کے لیے کوئی خاص وجہ بتانا ضروری نہیں ہوتی۔ وزیر اعظم کی ایڈوائس پر صدر کیلئےعمل کرنا ضروری ہے وجہ پوچھنا نہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 69 اپنی جگہ لیکن جو ہوا اس کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اگر اسے ہونے دیا گیا تو اس کے بہت منفی اثرات ہوسکتےہیں ۔ بظاہر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے جارہی تھی جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آگئی۔ہماری کوشش ہےمعاملےکو جلد مکمل کیا جائے۔

وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ روزے کی وجہ سے انرجی ڈاؤن ہے آج دلائل نہیں دےسکوں گا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں۔اگر کسی نے غداری کی تو ملک کے سربراہ نے پوری اسمبلی ہی اڑا دی جس پر اٹارنی جنرل بولے میں کل دلائل دونگا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ عدالت کل اعظم نذیر تارڑ کی پنجاب اسمبلی سے متعلق درخواست کو دیکھے گی۔کل فیصلہ کریں گے ہم نے آپ کو یہاں سنیں یا ہائی کورٹ کے پاس بھیجیں۔آپ کو اپنے مسائل کا خود حل نکالنا چاہیے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More