آئین کا تحفظ ہمارا فرض ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال کا آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے معاملے پر کہنا ہے کہ یہ آرٹیکل آئین کا حصہ ہے اور آئین کا تحفظ ہمارا فرض ہے۔آئین کی تشریح سپریم کورٹ کرسکتی ہے اور کرے گی۔

سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرینس پر سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔آج کی سماعت میں مسلم لیگ ن کے وکیل مخدوم علی خان کو دلائل دینے تھے تاہم انکے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے معاون وکیل نے بتایا کہ مخدوم علی خان 15 مئی کو واپس آجائیں گے۔

ا یڈیشنل اٹارنی جنرل نے استفسار کرنے پر چیف جسٹس کو بتایا کہ نئے اٹارنی جنرل آرہے ہیں اور وہ آرٹیکل63 اے کی تشریح پر عدالت کی معاونت کرنا چاہتے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے نوٹس میں چند باتیں لانا چاہتا ہوں۔آرٹیکل63 اے کےتحت منحرف اراکین کیخلاف ریفرنسز الیکشن کمیشن میں زیر التوا ہیں جس پر الیکشن کمیشن30 دن میں فیصلہ دے گا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو اس بات کا علم ہے۔ ہمارے پاس وقت ہے نہ گنجائش کہ ہر منحرف رکن کیخلاف الگ الگ 5 ممبرز بینچ سماعت کرے۔آرٹیکل 63 اے آئین کا حصہ ہے اور آئین کا تحفظ ہمارا فرض ہے، آئین کی تشریح سپریم کورٹ کرسکتی ہے اور کرے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ از خود نوٹس کسی کی مرضی سے نہیں لیتے۔ سپریم کورٹ سوچ بچار کے بعد از خود نوٹس لیتی ہے۔ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر 12 ججز کی مشاورت سے ازخود نوٹس لیا گیا۔ 12ججزنے کہا آئینی معاملہ ہے ازخود نوٹس لیاجائے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سوال صرف آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا ہے۔تشریح وفاق پر لاگو ہو یا صوبوں پر یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔ عدالت کی جو بھی رائے آئے گی تمام فریق اسکے پابند ہوں گے۔ سپریم کورٹ کی بے توقیری کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے۔

ق لیگ کے وکیل ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا افواہ ہے کہ وفاقی حکومت نئے اٹارنی جنرل کی تعیناتی کے بعد صدارتی ریفرنس واپس لے لے گی۔چیف جسٹس بولے یقین ہے کہ وفاقی حکومت ریفرنس کی اہمیت سے واقف ہو گی۔

وفاقی حکومت ریفرنس کی تشریح کے راستے میں نہیں آئے گی۔ پارلیمانی جمہوریت کے لئے آرٹیکل 63 اے کی تشریح بہت اہم ہے۔ ہم نے آئین کی تشریح آج کے لیے نہیں آنے والی نسلوں کے لیے کرنی ہے۔سپریم کورٹ کو 25 منحرف اراکین سے کوئی غرض نہیں۔

چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان کو کہا کہ آپ کے موکل کو سینٹ انتخابات سے متعلق عدالتی رائے پر عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش ہے تو درخواست کیوں نہیں دی۔ہمارے ازخود نوٹس کے اثرات کی مثال دی جاتی ہے۔ ریکوڈک کیس کے معاملے پر ججز کے سامنے کتنے شواہد آئے تھے مخدوم علی خان کو معلوم ہے۔ریکوڈک میں ایگزیکٹو اپنی زمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوئی۔

پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ آئینی بحث میں عدالت کی معاونت کرونگا۔عدالت کا بڑا ادب اور احترام ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل بولے آپکی ادب کی بات کی قدر کرتے ہیں۔ کاش یہ ادب احترام لوگوں میں بھی پھیلائیں۔ لوگوں بتائیں کہ عدالت رات کو بھی کھلتی ہے۔بلوچستان ہائیکورٹ رات ڈھائی بجے بھی کھلی۔ کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More