اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی رہائی کا حکم دے دیا

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو فوری رہا کرنے اور واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا حکم دے دیا۔

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کے مبینہ اغوا کےخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سماعت کی۔

عدالت میں بیان دیتے ہوئے شیریں مزاری نے کہا کہ مجھے موٹر وے پر ایک گھنٹے تک روکا گیا، اینٹی کرپشن پنجاب کے افسران فون پر ہدایات لے رہے تھے، اینٹی کرپشن پنجاب کے ساتھ کوئی خاتون افسر نہیں تھیں، اینٹی کرپشن کیساتھ ایک اور شخص بھی تھا جو غالبا آئی ایس آئی کا تھا، میل ڈاکٹر نے میرا طبی معائنہ کرنے کی کوشش کی، میرے بیگ کی بنا وارنٹ کے تلاشی لی گئی، تاحال مجھے میرا فون نہیں دیا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جب قانون کی پاسداری نہیں ہوتی تو ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ انہوں نے آئی جی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ یہ واقعہ کیسے رونما ہوا ،عدالت کس کو اس واقعہ کا زمہ دار ٹھہرائے؟

یف جسٹس نے کہا کہ جب آئین کا احترام نہیں ہوتا تو ایسے واقعات رونما ہوں گے،ہر حکومت کا آئینی خلاف ورزیوں پر افسوسناک رویہ ہوتا تھا۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو آج رات ساڑھے 11 بجے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More