تازہ ترین
نائن الیون حملے اور اسلامو فوبیا

نائن الیون حملے اور اسلامو فوبیا

ویب ڈیسک:(11 ستمبر 2020)گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں امریکا پر ہونیوالے دہشتگرد حملے جنہیں نائن الیون کے حوالے سے جانا جاتا ہے، ان حملوں نے دنیا کی سوچ کو یکسر بدل کر رکھ دیا، امریکا اور مغربی ممالک میں اسلامو فوبیا اور مسلمانوں کے حوالے سے منفی جذبات کی آگ آج بھی موجود ہے۔

گیارہ ستمبر دوہزار ایک جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر ہونے والے حملوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے سنگین مشکلات کو جنم دیا، امریکہ اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن بنادی گئیں اورانہیں بے روزگاری اور ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا۔

صورتحال یہاں تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ مسلمانوں کو نفرت اورحقارت سے دیکھا جانے لگا، محض شک کی بنا پر نوجوانوں کو گرفتار کرکے سزائیں بھی دی گئیں، دنیا دوحصوں میں بٹتی چلی گئی، مغربی دنیا نے مسلمانوں سے اس قدر نفرت کی کہ اگر کوئی مسلمان جہازمیں سوار ہوتا تو وہ اس سفرسے ہی انکار کردیتے۔

اس وقت کے امریکی صدربش نے تمام حملہ آوروں کومسلمان قرار دیتے ہوئے حملے کے ماسٹر مائنڈ اسامہ بن لادن اوراس کی تنظیم القاعدہ کی تلاش کیلئے افغانستان پر حملہ کیا، پاکستان کوامریکی اور نیٹوافواج کی مدد کرنے پرمجبورکیا جبکہ عراق میں بھی امریکہ نے جنگ کا آغازکیا۔

نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ کرکے متعدد افراد کو قید کیا،نائن الیون حملے کو انیس سال گزرنے کے باوجود مسمانوں کو آج بھی امریکہ جانے کے لیے ویزہ کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جبکہ امریکی ہوائی اڈوں پر مسلمان پاسپورٹ والوں کے لئے تہ درتہ تلاشی کی جاتی ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top