سندھ بار کونسل کے سیکرٹری عرفان مہر کے قتل میں اہلیہ ملوث نکلی

کراچی: کراچی گلستان جوہر میں ہدف بنا کر قتل کیے جانے والے سندھ بار کونسل کے سیکرٹری عرفان علی مہر کے قتل کی مرکزی ملزمہ اسکی اہلیہ نکلی۔ پولیس حکام نے بتایا کہ بار کونسل کے ممبر اور وکیل عرفان مہر کے قتل میں ملوث ملزم اکبر مقتول کا سالا ہے۔

سی ٹی ڈی حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے قائم مقام کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں قتل ہونے والے ایڈوکیٹ عرفان مہر کے قتل میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

کراچی چیف پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزم کی شناخت اکبر کے نام سے ہوئی ہے جو مقتول عرفان مہر کا سالا ہے، جب کہ قاتل کی دو سگی بہنیں بھی اس واردات میں ملوث ہیں، یہاں تک کہ مقتول کی اہلیہ نے اپنے بھائی اکبر کو اسلحہ خریدنے اور واردات میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل کے لئے پیسے بھی دیئے۔

غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ ملزمان کی کوئی سیاسی جماعت سے وابستگی نہیں بلکہ انھوں نے گھریلو رنجش پر بہنوئی کو منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا۔ ملزم اکبر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا ملازم ہے جب کہ ہم سمجھ رہے تھے کہ امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے لیے عرفان مہر کو قتل کیا گیا۔

سندھ بار کونسل کے نمائندے ایڈوکیٹ اقبال عنایت جتوئی نے پولیس کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس پر پہلے سے اعتماد تھا لیکن ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگ پر پورے صوبے کے 39 ہزار وکلا کو تشویش تھی۔

واضح رہے کہ یکم دسمبر کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں عرفان مہر کو اس وقت قتل کیا گیا، جب مقتول اپنے بچوں کو اسکول چھوڑ کر گھر واپس جارہا تھا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More