عراق: پرتشدد واقعات میں متعدد افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی

مقتدیٰ الصدر کے سیاست چھوڑنے کے اعلان کے بعد سے بغداد میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک تقریباً 20 افراد جاں بحق اور تین سو سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق عراق کے رہنما مقتدیٰ الصدر نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لینے اور ملک میں جاری سیاسی تعطل کی وجہ سے اپنے تمام اداروں کو بند کر دینے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد سے ان کے ناراض حامی سڑکوں پر نکل آئے۔

پرتشدد واقعات میں اب تک کم از کم 20 افراد کے ہلاک اور 350 دیگر کے زخمی ہوگئے۔ پرتشدد مظاہرین نے بغداد میں انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون میں واقع سرکاری عمارت ری پبلیکن پیلیس پر بھی دھاوا بول دیا۔ خونریز جھڑپوں میں دو عراقی فوجیو ں کی ہلاکت کی بھی خبریں ہیں۔

سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل داغے۔ تشدد کا سلسلہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی پھیل گیا ہے۔ مقتدی الصدر کے ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کیا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More