ویانا مذاکرات: امریکی فیصلے کے منتظر ہیں، ایران

ایران نے کہا ہے کہ ویانا مذاکرات پر امریکی فیصلے کے منتظر ہیں۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران ویانا مذاکرات میں ایران کے اقدامات اور نیک نیتی کی روشنی میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ایک باخبر ذریعے نے اس بات پر زور دیا ہے وہ کہ مذاکرات پرکسی فیصلے اور امریکی ردعمل کے منتظر ہیں۔ انہوں نے ویانا مذاکرات کی پیشرفت کے متعلق نمائندے کو بتایاکہ گزشتہ ہفتوں کے دوران ویانا مذاکرات میں ایران کے اقدامات اور نیک نیتی کی روشنی میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ اور اس کا ثبوت ایران اور بین الاقوامی معاہدے ہیں۔ اٹامک انرجی ایجنسی باقی ماندہ مسائل کو حل کرنے کے مقصد سے مشترکہ روڈ میپ تیار کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری طرف امریکی ٹیم سیاسی فیصلہ سازی میں سست روی کا شکار ہو کر اچھے معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ باخبر ذریعہ نے کہا کہ ویانا میں امریکی ٹیم باقی مسائل پر ضروری ہدایات کا انتظار کر رہی ہے۔ ویانا میں ہونے والے معاہدے کو آج کسی بھی چیز سے زیادہ مذاکرات میں پیش کی گئی تجویز پر امریکہ کے ردعمل کی ضرورت ہے۔

نائب وزیر خارجہ اور ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ علی باقری کنی مشاورت جاری رکھنے کے لیے منگل کو تہران واپس پہنچے تھے۔

ویانا میں ماہرین کی ملاقاتیں اور غیر رسمی مشاورت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کے باوجود ابھی بھی اہم مسائل باقی ہیں۔ حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے اور نہ ہی کوئی حتمی تاریخ طے کی جا سکتی ہے۔ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مغربی فریقین خصوصاً امریکہ کی طرف سے صرف ضروری سیاسی فیصلوں کی ضرورت ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More