ملک میں مہنگائی دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

اسلام آباد: ملک میں مہنگائی دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ادارہ شماریات کی ماہانہ مہنگائی رپورٹ کے مطابق جنوری میں ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اعشاریہ تین نو فیصد اضافہ ہوا جبکہ سالانہ بنیاد پر جنوری میں مہنگائی کی شرح تقریباً تیرہ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

اسلام آباد میں جاری وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا جنوری مہنگائی کی اوسط شرح دس اعشاریہ دو فیصد رہی جب کہ دسمبر دوہزار اکیس میں مہنگائی کی شرح بارہ اعشاریہ تین اور جنوری دوہزار اکیس میں پانچ اعشاریہ سات فیصد تھی۔

ماہرین کے مطابق بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کی بنیادی وجہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوری میں سالانہ بنیادوں پر کوکنگ آئل چون اعشاریہ تین تین فیصد، گھی سینتالیس اعشاریہ چار اور دال مسور اکتالیس اعشاریہ تین فیصد مہنگے ہوئے جب کہ پھل اٹھائیس اعشاریہ تین فیصد مہنگے ہوئے اس طرح جنوری میں سالانہ بنیادوں پربجلی چارجز چھپن اعشاریہ دو فیصد پیٹرولیم مصنوعات میں چھتیس اعشاریہ دو فیصد جبکہ پلاسٹک مصنوعات گیارہ اعشاریہ سات فیصد  اور ریڈی میڈ گارمنٹس تیرہ فیصد مہنگے ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق جنوری میں ماہانہ بنیادوں پر گندم دواعشاریہ چھ آٹھ فیصد، گوشت ایک اعشاریہ سات آٹھ، پھل چار اعشاریہ ایک، دال مسور چھ اعشاریہ ایک اور دال چنا تین اعشاریہ تین فیصد مہنگی ہوئی ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More