تنخواہوں اور پنشز میں اضافہ، نوجوانوں کو لیپ ٹاپ بھی ملیں گے

اسلام آباد: نئے منتخب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آج قوم کے لے ایک عظیم دن ہے۔اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔ ایوان نے سلیکٹڈ وزیراعظم کو آئین و قانون کےمطابق ہٹایا۔ حق کی کامیابی اور باطل کو شکست ہوئی۔ سپریم کورٹ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ سپریم کورٹ نے آئین شکنی کو کالعدم اور نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔آئندہ کوئی نظریہ ضرورت کا سہارا نہیں لے سکے گا۔

نئے وزیراعظم نے اپنے آپ کو خادم پاکستان کا لقب دیتے ہوئے یکم اپریل سے ماہانہ اجرت کم از یم 25 ہزار روپے مقررکرنے، ایک لاکھ تک تنخواہ لینے والوں کی تنخواہ میں 10 فیصد، سول اور ملٹری ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا جبکہ نوجوانوں کو مزید لیپ ٹاپ دینے کی بھی خوش خبری سنائی ۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر کارڈ کو دوبارہ لیکر آئیں گے۔بے نظیر وطن کو خون دے کر گئی۔ بے نظیر کا کارڈ پر نام رہنا چاہیے تھا۔ بے نظیر پروگرام کو مزید وسعت دیں گے۔پنجاب بڑا بھائی ضرور ہے لیکن پورا پاکستان نہیں ہے۔ہم چاروں صوبوں کو ساتھ لیکر چلیں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ آصف زرداری کے دورمیں اٹھارویں ترامیم ہوئی۔ ہم سب نے مل کر متفقہ طور پر این ایف سی ایوارڈ دیا۔اسپتالوں میں مفت ادویات نوازشریف دورمیں شروع ہوئیں جبکہ نوازشریف دور میں یونیورسٹیاں، اسپتال بنائے گئے۔ پی کے ایل آئی کا جو حشر کیا گیا اس سے خوف آتا ہے۔

نئے وزیر اعظم نے رمضان میں ملک بھر کے بازاروں میں سستا آٹا فراہم کرنے کا بھی عہد کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سستی بجلی اور گیس کے منصوبے لگائے تھے۔ آگے بھی بجلی اور گیس کا معاملہ حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم سی پیک لیکر آئے تھے۔ ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے۔

شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ آج ڈالر 190 سے واپس 182 پر آیا ہے۔ ڈالر 8 روپے نیچے گیا ہے۔ یہ ایوان پر بھرپور اعتماد کا اظہار ہے۔ ایوان نے جھرلو، سلیکٹڈ وزیراعظم کو آئین و قانون کے مطابق ہٹایا۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے عدم اعتماد کامیاب ہوئی۔ حق کی کامیابی اور باطل کوشکست ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنے قائد نواز شریف کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے تمام معاملے میں میری مکمل رہنمائی فرمائی۔ میڈیا کا بھی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ملک بھر کی وکلا برادری کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، وکلا ہماری جنگ میں ہراول دستہ تھے۔

نومنتخب وزیراعظم نے کہا کہ اتفاق اور اتحاد سے ہم مسائل کو حل کریں گے۔اگر ملک کی جمہوریت کو آگے بڑھانا ہے تو پھر ڈیڈ لاک نہیں ’ڈائیلاگ ہوگا۔تبدیلی باتوں سے نہیں آتی۔معاشرے کے اندر زہر گھول دیا گیا۔ زہر آلودہ پانی کو صاف کرنے میں کئی سال لگیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسائل کو حل کرنے کے لیے خون پسینہ بہانا اور محنت کرنا ہوگی۔ اتحاد، محنت کے علاوہ راستہ نہیں۔ صورتحال بہت خراب ہے تاہم انتھک محنت کریں گے۔ تقسیم سے نہیں تفہیم سے کام لینا ہوگا۔ سابق حکومت کو میثاق معیشت کی پیشکش بڑی سوچ سمجھ کر کی تھی۔ اگر اسے نہ ٹھکرایا جاتا تو آج معیشت کا اتنا برا حال نہ ہوتا۔ایک سال بعد دوبارہ میثاق معیشت کی پیشکش کی تھی۔اگر ان میں پاکستانیت کا جوش ہوتا تو پیشکش کو قبول کرتے۔ اگر پیشکش قبول کرتے تو لاکھوں لوگ بے روزگار نہ ہوتے۔

وزیراعظم پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج بتانا چاہتا ہوں ملکی حالات کیا ہیں۔بدقسمتی سے رواں مالی سال تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ خسارہ ہونے جارہا ہے۔ تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی خسارہ ہونے والا ہے۔ جاری کھاتوں کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی تاریخ کا ہونے جارہا ہے۔ مہنگائی عروج پر اور 60 لاکھ بے روزگار ہوچکے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی ان کونیند کیسے آتی تھی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More