پہلی قومی سلامتی پالیسی کےعوامی ورژن کا اجراء

اسلام آباد: وزیراعظم نے قومی سلامتی پالیسی کے عوامی حصے کے اجرا کی تقریب میں پالیسی کی دستاویز پر دستخط کردیے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی پالیسی میں نیشنل سکیورٹی کو صحیح معنوں میں واضح کیا گیا، بڑی محنت سے متفقہ قومی دستاویز تیار کی گئی، کوشش ہے عوام اور ریاست ایک راستے پر چلیں، مجبوری کی حالت میں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے، ماضی میں ملک کو معاشی طور پر مستحکم نہیں کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے پہلی قومی سلامتی پالیسی کےعوامی ورژن کا اجراء کردیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمر ان خان اپنی حکومت کے قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل کے کامیاب اقدام کو اجاگر کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی پالیسی ان کی حکومت کی اولین ترجیح تھی، وزیراعظم نے واضح کیا کہ قومی سلامتی پالیسی 2022-2026کا محور حکومت کا وژن ہے۔ کسی بھی قومی سلامتی پالیسی میں قومی ہم آہنگی اور لوگوں کی خوشحالی کو شامل کیا جانا چاہئے۔

ملک کو محفوظ بنانے پر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تربیت یافتہ فوج موجود ہے، کوشش ہے ریاست اور عوام ایک راستے پر چلیں، ملک کی معیشت کمزور ہوگی تو دفاع بھی کمزور ہوگا، مجبوری کی حالت میں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے، آئی ایم ایف کی شرائط ماننا پڑتی ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کی وجہ سے لوگوں پر بوجھ ڈالنا پڑتا ہے، آئی ایم ایف سب سے سستے قرض دیتا ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے اظہار خیال کرتے ہوئے قومی سلامتی پالیسی کا وژن تفصیل سے بیان کیا ۔ انہوں نے مسلسل تعاون پر وزیراعظم عمران خان اور تمام حکام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہاکہ قومی سلامتی پالیسی ہماری سلامتی پر اثر انداز ہونے والے روایتی اور غیر روایتی مسائل کے وسیع تناظر میں تشکیل دی گئی ہے ۔ قومی سلامتی پالیسی میں معاشی سلامتی ، جیوسٹریٹجک اور جیو پولیٹیکل پہلووں کا محور ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More