عمران خان کو اپنے معاشی جرائم کا جواب دینا پڑے گا، مریم اورنگزیب

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات نے مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے ادوار میں معاشی، اقتصادی اور اشیاء کی قیمتوں کا موازنہ جاری کر دیا۔مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عوام سب جانتے ہیں۔ اپنے مجرم کو پہچانتے ہیں۔ معاشی تباہی کا چہرا صرف عمران خان ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی ادوار کا موازنہ جاری کردیا۔ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے دور میں ہمیشہ مہنگائی اور کرپشن کم ہوئی۔ نواز شریف، شہباز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ عوام کو ریلیف دیا ہے۔ عمران خان کے معاشی جرائم کی سزا پاکستان کے عوام کو نہیں دینا چاہتے۔

اپنے بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پٹرول کی قیمت بڑھانا آسان ہے لیکن ہم عوام کومزید تکلیف سے بچانا چاہتے ہیں تاکہ عوام مزید غریب نہ ہوں اور ان پر مزید بوجھ نہ پڑےاس لئے پٹرول کی قیمت نہیں بڑھا رہے۔ مہنگائی بڑھانا مسلم لیگ (ن) کی روایت اور اس کے منشور کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اپنے معاشی جرائم کا بوجھ اٹھانا اور جواب دینا پڑے گا۔مہنگا آٹا، مہنگی گیس، مہنگی بجلی، مہنگی دوائی کا حساب عمران خان کو دینا پڑے گا۔ نواز شریف دور میں ڈالر 116 روپے تھا جسے عمران خان نے 189 روپے پر پہنچا دیا۔ 1947ء سے 2018تک تمام حکومتوں نے مل کر 71 سال میں 24 ہزار 953 ارب روپے قرض حاصل کیا جبکہ عمران خان نے صرف ساڑھے تین سالوں میں قرض کو 42 ہزار 745 ارب روپے تک بڑھا دیا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ نواز شریف نے قومی ترقی کی شرح 6.1 فیصد پر پہنچائی۔ عمران خان نے پہلے اسے منفی میں پہنچایا اور اب 4 فیصد متوقع ہے۔ نواز شریف کے دور میں مہنگائی 3.9 فیصد تھی، عمران نے اسے 13 فیصد پر پہنچایا۔ نواز شریف دور میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 700 روپے کا تھا جو عمران خان کے دور میں 1100 روپے کا ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف دور میں چینی 52 روپے فی کلو تھی جو عمران خان کے دور میں 120 روپے فی کلو ہوئی۔ نواز شریف دور میں گھی 151 روپے کلو تھا، عمران خان کے دور میں 470 روپے کلو ہو گیا۔ نواز شریف دور میں بجلی کی فی یونٹ قیمت 11 روپے تھی جو عمران خان کے دور میں 24 روپے ہو گئی۔ نواز شریف دور میں گیس کی قیمت 600 روپے ایم ایم بی ٹی یو تھی جو عمران خان کے دور میں 1400 روپے ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی۔

وزیر اعلاعات کا کہنا تھا کہ نواز شریف دور میں کھاد کی بوری کی قیمت 1380 روپے تھی جو عمران خان کے دور میں 3 ہزار روپے تک فروخت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں مالی خسارہ 2260 ارب روپے تھا جو عمران خان نے 5600 ارب روپے پر پہنچا دیا جبکہ تجارتی خسارہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں 30.9 ارب ڈالر تھا جو عمران خان کے دور میں 43 ارب ڈالر پر پہنچ گیا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس 11.1 فیصد تھا یعنی ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا۔ عمران خان کے دور میں جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس کم ہو کر 9.2 فیصد پر آ گئے۔ مسلم لیگ (ن) کے دور میں بے روزگاروں کی تعداد کم ہو کر 35 لاکھ رہ گئی تھی جبکہ عمران خان کے دور میں 60 لاکھ مزید لوگ بے روزگار ہوئے اور کل تعداد 95 لاکھ ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف دور میں پاکستان میں کرپشن کم ہوئی، عالمی درجہ بندی میں پاکستان 117 نمبر پر آ گیا۔ عمران خان کے دور میں کرپشن کے ریکارڈ ٹوٹے، عالمی درجہ بندی میں پاکستان 23 پوائنٹس اوپر گیا۔ عمران خان بتائیں ! پاکستان میں کرپشن کیوں بڑھی، 117 سے پاکستان 140 نمبر پر کیوں گیا؟ ۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More