تازہ ترین
عمران خان، اعتماد کا فقدان

عمران خان، اعتماد کا فقدان

عمران خان، اعتماد کا فقدان سال نو کا پہلا مہینہ پاکستان کی سیاست اور حکومت دونوں کے لئے بڑا ہنگامہ خیز اور بیک وقت کئی بحرانوں سے گھرا ہوا گزرا ہے جہاں تک بحرانوں اور سیاسی معاملات میں اکھاڑ پچھاڑ کا معاملہ ہے یہ دونوں دن بہ دن بڑھتے ہی جارہے ہیں۔

عمران خان کی مخلوط حکومت جن بیساکھیوں کے سہارے برسر اقتدار ہے وہ تیز و تند سیاسی ہواؤں میں اکثر لڑکھڑانے لگتی ہیں۔ جنوری کے آغاز میں جن چھوٹی جماعتوں کے سہارے عمران خان کو برسراقتدار لایا گیا تھا بیک وقت ان جماعتوں نے حکومت کی چولیں ہلانی شروع کردیں ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ نے سب سے پہلے پہلا پتھر ایوان اقتدار کے شیشے کے محل پر پھینکا کہ ایسی حکومت کا ساتھ دینے کا کوئی فائدہ نہیں جو ہمارے ساتھ کئے ہوئے تحریری معاہدے سے پھر جائے۔ متحدہ نے نہ صرف وفاقی وزارت سے اپنے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو واپس بلا لیا بلکہ حکومت کے ساتھ تعاون ختم کرنے کی بھی دھمکی دی۔ عمران خان کی مداخلت سے معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اختلافات کی خلیج اسد عمر، پرویز خٹک کی دوسری مصالحتی کوششوں کے باوجود ختم نہ ہوئی۔ مخلوط حکومت میں سندھ سے شامل دوسری جماعت جی ڈی اے نے بھی اس صورتحال سے پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ انسپکٹر جنرل پولیس کے تبادلے کے تنازع میں عمران خان اور وزیراعلیٰ سندھ کے درمیانی ہونے والی مفاہمت کو ناکام بناکر سندھ کے دیہی علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے میں کامیاب رہی۔ پنجاب میں وزیراعظم بظاہر عثمان بزدار کے خلاف کشیدگی کو وقتی طور پر ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ مسلم لیگ ن آسانی کے ساتھ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو فراموش کرنے والی نہیں ہے رہ گیا خیبر پختونخوا کے سیاسی حالات کا معاملہ تو یہاں عمران خان نے جن لوگوں کے کہنے پر سرجیکل آپریشن کرکے اپنے بہترین ساتھیوں کو وزارت سے برطرف کیا ان کے متعلق اب یہ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کو برطرف شدہ وزرا کے متعلق غلط اطلاعات فراہم کرکے گمراہ کرکے انتہائی قدم اٹھوایا گیا۔ وزیراعظم اپنے برطرف شدہ بیش بہا ساتھیوں کو ان کی اعلیٰ خدمات کے تحت دوبارہ صوبائی کابینہ میں واپس بھیج رہے ہیں۔ جہاں تک بلوچستان کے سیاسی بحران کا تعلق ہے تو اس صوبہ کی یہ بدقسمتی ہمیشہ سے رہی ہے کہ وہ اسلام آباد کے حکمرانوں سے انحراف کرنے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتے۔

گندم، چینی، انسپکٹر جنرل پولیس سندھ اور خیبرپختونخوا میں عثمان بزدار پلس کی حکومت کی نااہلی سے پیدا شدہ صورتحال نے تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں اور مخلص کارکنوں کو ذہنی طور پر شدید سیاسی کشمکش سے دو چار کر رکھا ہے اور اب ان کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ موجودہ سیاسی و انتظامی بحران خود ان کی جماعت اور حکومت کے پیدا کردہ ہیں۔ تحریک انصاف کے کارکنوں اور عام پبلک میں تحریک انصاف اور عمران خان پر ان کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا ہے مصیبت یہ ہے کہ حکومت کے وزرا اور جماعت کے رہنما دونوں اپنی غلطیاں تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ ق تحریک انصاف کے اس لحاظ سے بہترین اتحادی تھے کہ ان دونوں جماعتوں کو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ دونوں کے ساتھ نہ صرف سیاسی بلکہ ذاتی اختلافات شدید تھے اور ہیں لیکن یہ دونوں جماعتیں عمران خان کی حکومت سے سخت بدگمان ہیں۔ وزیراعظم گزشتہ دنوں جب کراچی اور لاہور کے دوروں پر گئے اور وہاں کے سیاسی معاملات کو حل کرنے کے سوال پر منعقد ہونے والے اجلاسوں میں ان دونوں پارٹیوں کو بری طرح نظر انداز کیا۔ سندھ میں تحریک انصاف کے کارکن بھی انسپکٹر جنرل پولیس کی تعیناتی کے مسئلے پر وزیراعظم کے یوٹرن پر حیران و پریشان ہیں کیونکہ کافی طویل عرصہ بعد وزیراعظم اور سندھ کے وزیراعلیٰ کے درمیان گورنر سندھ کی موجودگی میں جو فیصلے ہوئے تھے اس کو وزیراعظم نے یکطرفہ طور پر ختم کرکے صوبہ کی سیاسی کشیدگی کو برقرار رکھنے کو ترجیح دی۔

جہاں تک ملک میں مختلف مافیاز کی موجودگی کا تعلق ہے وزیراعظم اقتدار میں آنے کے پہلے دن سے مسلسل یہ عہد کرتے چلے آرہے ہیں کہ وہ ان کو نہیں چھوڑیں گے۔ جہاں تک ان کے مخالف سیاسی مافیاز کا تعلق ہے وہ ان کے سرغنہ نیب اور عدالتوں کے شکنجے میں آچکے ہیں بقیہ جو رہ گئے ہیں وہ بھی آج نہیں تو کل پابند سلاسل ہوسکتے ہیں البتہ آٹا اور چینی سے تعلق رکھنے والی مافیا آزاد اور بے فکر ہوکر دن رات غریب عوا م کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے خود وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اعتراف کیا کہ ان کو روز افزوں مہنگائی کے متعلق غلط معلومات فراہم کی گئیں۔ وزیراعظم نے اپنے دو سینیئر وزرا اسد عمر اور مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو ہدایت کی کہ وہ عوام کی ضرویات زندگی کی اشیا کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کریں۔ وزیراعظم کی اس تنبیہہ کے باوجود مہنگائی کی شرح کسی بھی صورت میں کم ہوتی نظر نہیں آتی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان جیسا اہم ادارہ بھی اب یہ اعتراف کرنے لگا ہے کہ ملک میں مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، معاشی سست روی بدترین سطح تک پہنچ گئی ہے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر خود وزیراعظم کا یہ تبصرہ مزید وضاحت کا محتاج نہیں ہے کہ میں جب کابینہ کے اجلاس میں اپنے وزرا کے مہنگائی کی وجہ سے اترے ہوئے چہرے دیکھتا ہوں تو ان سے کہتا ہوں کہ گھبرانا مت مہنگائی کی ذمے دار مافیا کو چن چن کر پکڑ کر ان کا خاتمہ کریں گے۔ آٹا اور چینی کے بحران پیدا کرنے والے مافیا کے سرگرم گروہ میں سے چند کا تعلق حکمران جماعت سے بھی ہے وہ نہ صرف آزاد گھوم رہے ہیں بلکہ مہنگائی کی موجودہ شرح میں بھی اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کےچیف جسٹس گلزار احمد گزشتہ ہفتے کے دوران ملک کے دو اہم ترین سرکاری اداروں پاکستان ریلوے کو ملک کا کرپٹ ترین ادارہ قرار دے چکے ہیں۔ محکمہ ریلوے کی ناقص کارکردگی سے روزانہ ہزاروں غریب مسافروں کی جانوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں جب سے شیخ رشید جیسے چرب زبان اور ماہر سیاسی نجومی نے اس محکمے کا چارج سنبھالا ہے ایک سو سے زائد ریلوے حادثات ہوچکے ہیں جن میں سیکڑوں خاندان اجڑ کررہ گئے ہیں۔ دوسرا اہم ترین ادارہ ملک میں کرپٹ اور بدعنوان افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے والا نیب ہے۔ یوں تو کوئی مہینہ ایسا نہیں جاتا جب چہرہ نہیں کیس دیکھنے والے چیئرمین جو خیر سے خود بھی سپریم کورٹ کے جج رہے ہیں سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی عدالتوں سے اپنی ناقص کارکردگی کی بنا پر اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بنتے رہتے ہیں لیکن گزشتہ روز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے نیب کو ملک کا استحصالی ادارہ قرار دیا ہے۔ چیف جسٹس نے نیب کے تفتیشی افسران کو نااہل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس ادارے کے قائم رہنے کا جواز اب ختم ہوچکا ہے اس کو بند کردینا چاہئے۔ نیب بندے کو گرفتار کرکے بند کردیتا ہے وہ سالوں جیلوں میں پڑا رہتا ہے آخری میں نیب کہہ دیتا ہے کہ گرفتار شدہ شخص بے قصور ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نیب میں کام کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top