ہم سب سے دوستی کریں گے لیکن غلامی نہیں کریں گے، عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نےکہاکہ تین چوہے اکٹھے ہوئے ہیں۔ تیس سال سے ملک کو لوٹ رہے ہیں۔ یہ ملک کا خون چوس رہے ہیں۔ ان کی اربوں ڈالرز کی پراپرٹی باہر ہے۔ میں کہتا ہوں حکومت جاتی ہے تو جائے، میری جان جاتی ہے تو جائے، کبھی بھی انہیں معاف نہیں کروں گا۔

این آر او

پریڈ گراؤنڈ اسلام آباد میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نےکہا اپوزیشن نے عدم اعتماد کا ڈراما صرف اس لیے کھیلا ہے کہ وہ چاہتے کہ جنرل پرویز مشرف کی طرح میں بھی گھٹنے ٹیک کر انہیں این آر او دے دوں ۔وزیراعظم نے کہا کہ آج جو ہم بوجھ اٹھارہے ہیں وہ صرف اس لیے کہ پرویز مشرف نے اپنی حکومت بچانے کے لیے انہیں این آر او دیا۔ میں کہتا ہوں حکومت جاتی ہے تو جائے، میری جان جاتی ہے تو جائے، کبھی بھی انہیں معاف نہیں کروں گا۔

ڈرون حملے

وزیراعظم نے کہا کہ ان لوگوں نےفارن فنڈنگ لےکراپنےملک میں ڈرون حملےکرائے۔ 90 کی دہائی میں امریکا مطالبہ پر رمزی یوسف کو امریکا کے حوالے کر دیا۔ عدالت میں رمزی یوسف کا وکیل جج کو کہتا ہے۔ پاکستانی ڈالر کیلئے اپنی ماں بیچ دیں گے۔ رمزی یوسف کےوکیل کی بات پر بہت شرمندگی اور افسوس ہوا تھا۔ ہماری قوم غیرت مندلیکن سربراہ بےغیرت تھی۔

خارجہ پالیسی

وزیراعظم عمران خان نےکہاہےکہ ان کی حکومت کےخلاف سازش ہورہی ہے۔ کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جب ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دینے کی کوشش کی تو فضل الرحمان اور بھگوڑا نواز شریف کی اس وقت کی پارٹیوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک چلائی۔ آج جیسے حالات بنادیے گئے اور ان حالات کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ آج آصف علی زرداری سب سے بڑی بیماری۔ اس کا نواسہ کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔ دونوں کرسی کی لالچ میں اپنے نانا کی قربانی کو بھلا کر اس کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور اس کی وکالت کر رہے ہیں۔ شرم نہیں آتی کہ سیاست نانا کے اوپر کرتے ہیں اور جس نے قتل کیا اس کے ساتھ مل کر کرسی کی خاطر کر رہے ہیں۔
آج قاتل اور مقتول اکٹھے ہوگئے۔ جنہوں نے اکٹھا کیا ہے۔ ان کا بھی ہمیں پتا ہے لیکن آج وہ ذوالفقار علی بھٹو والا وقت نہیں۔ وقت بدل چکا ہے۔

فارن فنڈنگ

وزیراعظم نے کہا کہ ہم کسی کی غلامی قبول نہیں کریں گے۔ ہم سب سے دوستی کریں گے لیکن غلامی نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پچھلے مہینوں سے پتہ ہے کہ یہ سازش ہو رہی ہے۔ حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پیسہ باہر سے ہے۔ لوگ ہمارے استعمال ہو رہے ہیں۔ زیادہ تر انجانے لیکن کچھ جان بوجھ کر ہمارے خلاف یہ پیسہ استعمال کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ باہر سے کہاں سے ہم پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن ہمارے ملکی مفاد میں لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔ ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں الزامات نہیں لگا رہا ہے۔ میرے پاس جو خط ہے یہ ثبوت ہے اور میں آج یہ سب کے سامنے کہہ رہا ہوں کہ کوئی بھی شک کر رہا ہے، ان کو دعوت دوں گا کہ آف دا ریکارڈ بات کریں گے۔ اور آپ خود دیکھیں گے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔

ہیلتھ انشورنس

عمران خان نے کہا دعویٰ کرتا ہوں ساڑھے3 سال میں کسی حکومت نے ایسی پرفارمنس نہیں دی ہم نے جو پرفارمنس دی ہے۔ تاریخ میں کسی حکومت نےنہیں دی۔ 100سال میں بڑا بحران کورونا وائرس کا آیا۔ لاک ڈاؤن لگے۔ کئی ممالک میں سب کچھ بند کیا گیا۔ غریب اور دہاڑی دار بے روزگار ہوئے۔ میں نے پاکستان کو بند نہیں کیا۔ کہا گیا عمران خان لوگوں کو تباہ کر رہا ہے۔ سندھ حکومت نے بھی میری بات نہیں مانی۔ فخر سے کہتا ہوں پاکستان نےجوقدم اٹھائے دنیا نے تسلیم کیا۔ آج دنیا تسلیم کرتی ہے ہم نےمعیشت کو اور غریبوں کو بھی بچایا۔ ورلڈبینک رپورٹ کے مطابق آج سب سے کم بےروزگاری پاکستان میں ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس راستے پر نکل چکے ہیں۔ جہاں لوگوں کی مددکی جارہی ہے۔ دنیاکےکسی ملک میں ہیلتھ انشورنس نہیں ہم نےقومی صحت کارڈکےذریعےغریبوں کوہیلتھ انشورنس دی۔ میرے پاکستانیوں مجھے فخر ہے کہ پاکستان میں ہیلتھ انشورنس لائےہیں۔ آج غریب سےغریب آدمی پرائیویٹ اسپتال میں اپناعلاج کرا سکتا ہے۔

ریکوڈک معاہدہ

وزیراعظم عمران خان نےبتایاکہ گیارہ سال پہلے بلوچستان کے ریکوڈک کے منصوبے پر دو ہزار ارب روپے کا جرمانہ ہوا تھا۔دو حکومتیں آئیں اور گئیں وہ کچھ نہیں کر سکے۔لیکن پی ٹی آئی حکومت اور ان کی ٹیم نےتین سال مسلسل مذاکرات کیے۔ دو ہزار ارب کا جرمانہ ختم کیا اور اس کمپنی کو واپس پاکستان لائے۔ جو پاکستان میں نو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ وزیراعظم نےکہا کرائے کےبجلی گھرمنصوبےسےمتعلق جرمانہ بھی معاف کرایا۔پیپلزپارٹی کے دور میں رینٹل کے منصوبے پر دوسو ارب کا جرمانہ ہوا تھا انہوں نے صدر اردوان سے بات کی اور دوسو ارب کا جرمانہ ختم کیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More