توہین عدالت کے مقدمہ میں عمران خان کو سات روز میں جواب جمع کرانے کا حکم

جج کو دھمکی دینے سے متعلق توہین عدالت کے مقدمے میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو سات روز میں جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ منیر ملک، مخدوم علی خان اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے عدالتی معاون مقرر۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ بولے عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر دکھ ہوا ایک سیاسی جماعت کو قانون اور آئین کی حکمرانی پر یقین رکھنا چاہیئے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف خاتون جج کو دھمکانے پر توہین عدالت سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اپنے وکیل حامد خان کے ہمراہ پیش ہوئے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی جانب سے جمع کرائے گئے ایسے تحریری جواب کی توقع نہیں تھی۔ امید تھی کہ آپ عدلیہ کا اعتماد بڑھائیں گے۔۔۔ عمران خان کا جواب ان کے قد کاٹھ جیسا نہیں۔ ماتحت عدلیہ کیلئے عمران خان نے ہماری بات سنی جس کے بعد جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر جاری ہے۔ عمران خان کے پائے کے لیڈر کو ہر لفظ سوچ سمجھ کر ادا کرنا چاہیئے ہمیں توقع تھی کہ غلطی کا احساس ہوگا۔ جس طرح گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا اسی طرح زبان سے نکلی بات واپس نہیں جاتی۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ عدلیہ اور ججز پر جتنا دل چاہے تنقید کریں مگر عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ سپریم کورٹ کے جج کیساتھ تصویر کو سیاسی جماعت کا کارکن بنا کر وائرل کیا گیا۔ دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بات کرنے کی کوشش کی تو عدالت کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کا معاملہ عمران خان اور عدلیہ کے مابین ہے۔

عمران خان کے وکیل حامد خان نے عمران خان کے جواب کے قانونی نقاط پر بات کرنا چاہی تو چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا ماضی میں ایسے قوانین کو اس عدالت نے کالعدم قرار دیا جو اگر آج نافذالعمل ہوتا تو چھ چھ مہینے ضمانت نہیں ہوسکتی تھی۔ حکمران جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو ان کی ترجیحات اور ہوتی ہیں۔ ہر ادارے کی اپنی آئینی حدود ہیں۔

عدالت نے وفاقی حکومت کے نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی غداری اور بغاوت کے کیسز پر نظر ثانی کریں۔ چیف جسٹس بولے کہ ایک کیس میں فواد چوہدری کو بتایا تھا کہ ایک سو سولہواں نمبر عدلیہ کا نہیں بلکہ ایگزیکٹو کا تھا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بولے توہین عدالت سے متعلق کارروائی آج ہی ختم ہوسکتی تھی مگر جواب تسلی بخش نہ ہونے کیوجہ سے ایک مہلت دی جارہی ہے۔ عدالت نے سات یوم میں عمران خان کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت آٹھ ستمبر تک ملتوی کردی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More