شفاف الیکشن کے بعد آرمی چیف کی تقرری ہونی چاہیئے، عمران خان

سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری چور دروازے کے بجائے اگر صاف شفاف الیکشن سے اقتدار میں آئیں تو پھر یہ آرمی چیف کا تقرر کرلیں۔

نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ ملک میں سیلاب سے بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے۔ خاص طور پر سندھ میں پانی کھڑا ہونے سے چاول کی فصل تباہ ہوئی بلکہ گندم کی فصل کی بوائی بھی مشکل ہے۔ عمران خان نے کہا کہ سیلاب کے اثرات ابھی سامنے نہیں آئیں گے، یہ اثرات سردیوں میں سامنے آئیں گے موسمی تغیر دنیا بھر میں تباہی مچارہا ہے، پاکستان کا شمار دنیا کے 10 سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں ہے، جب تک سندھ میں پانی کی نکاسی کا نظام نہیں بنے گا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ سیلاب کے تناظر میں انتخابات موخر کرنے کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ سیلاب سے زیادہ امتحان ملک کی معاشی صورت حال ہے۔ آئی ایم ایف کے قرض کے باوجود ہمارا روپیہ گر رہا ہے، جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آتا تو معاشی استحکام بھی نہیں آئے گا۔ اگر ہم دیوالیہ ہوگئے تو ہماری قومی سلامتی پر سودے بازی کی جائے گی۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جب ہم اقتدار سے گئے تو ڈالر 178 روپے پر تھا، شرح نمو 6 فیصد تھی، 4 بڑی فصلوں کی ریکارڈ پیداوار تھی، ملک کے پاس پیسہ اور ڈالر آرہے تھے۔ اس صورت حال میں ہماری حکومت بیرونی سازش کے ذریعے گرائی گئی۔ عمران خان نے کہا کہ ہم بڑی مشکل سے اپنی معیشت سنبھال کر بیٹھے تھے، میں نے اسٹیبلشمنٹ سے کہا کہ اگر ہمارے خلاف سازش ناکام ہوگئی تو ملکی معیشت سنبھالی نہیں جاسکے گی، آج بین الاقوامی اداروں کا پاکستان کی معیشت پر بھروسہ نہیں، ملک کو 30 ارب ڈالر کی ضرورت ہے، اگر آئی ایم ایف سمیت تمام بین الاقوامی مالیاتی ادارے 6 سے 7 ارب ڈالر ہی دیں گے باقی کہاں سے لائے جائیں گے۔ پاکستان دیوالیہ ہونے جارہا ہے، اس لئے میں کہہ رہا ہوں کہ ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کرائے جائیں، پہلے سیاسی استحکام لے کر آئیں اسی سے معاشی استحکام آنے کا امکان ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جس طرح ہماری کرنسی گر رہی ہے، اس صورت حال میں یہ خوف آرہا ہے کہ پاکستان سب کے ہاتھ سے نکل جائے گا، موجودہ صورت حال میں تو میرا فائدہ ہی فائدہ ہورہا ہے، ہر بار جو یہ کرتے ہیں میرے لئے حمایت بڑھتی جارہی ہے۔ انتخابی عمل کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ہمیشہ آئینی راستے اختیار کرتی ہے، جو لوگ ایک اچھی بھلی حکومت کو ہٹا کر ان لوگوں کو لائے ہیں، ان کو سوچنا چاہیے کہ کیا وہ پاکستان کا سوچ رہے تھے؟ اگر مجھے یہ بھروسہ ہوتا یہ ملک کو مستحکم کرسکتے تو میں خاموش رہ جاتا، ان کی ہر چیز ناکام ہوتی جارہی ہے، مجھے خوف ہے کہ یہ سب کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ہمارے پاس صوبائی حکومتیں ہیں، ہم وہاں سے استعفے دے سکتے ہیں، ہم اس کے لیے مناسب وقت کے بارے میں سوچ و بچار کررہے ہیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں جب چاہوں قوم کو سڑکوں پر نکال سکتا ہوں، 2 گھنٹے کی کال پر لوگ سڑکوں پر آجاتے ہیں، لاوا پکا ہے، لوگ سڑکوں پر آنے کے لیے تیار ہیں، اسے سری لنکا جیسی صورت حال کی شکل دینا کوئی مشکل نہیں، ہم نے خود فیصلہ کیا کہ ہم صرف پرامن جلسے کریں گے۔ عمران خان نے کہا کہ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کو مقرر کیا، الیکشن کمشنر کی تقرری کے معاملے پر ہمارے اور شہباز شریف کے درمیان ڈیڈ لاک ہوگیا تھا، بیچ میں ‘‘انہوں’’ نے امپائر بن کر ان کا نام دیا، انہوں نے کہا کہ وہ ضمانت دیتے ہیں کہ ٹھیک ہوگا۔ اور وہ کمر میں چاقو مارنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا۔ اس الیکشن کمیشن نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا معاملہ سبوتاژ کرایا۔

ںئے آرمی چیف کی تقرری سے متعلق سابق وزیر اعظم نے کہا کہ آرمی چیف کا عہدہ بہت اہم ہے، اس پر تقرری میرٹ پر ہونی چاہیے۔ آصف زرداری اور نواز شریف کے لیے میرٹ کی کوئی اہمیت نہیں، یہ اپنا ہر قدم اسی سوچ کے تحت اٹھاتے ہیں کہ ان کا پیسا کس طرح بچے گا، 85 سیٹوں والا مفرور کیسے آرمی چیف کی تعیناتی کرسکتا ہے؟۔

عمران خان نے کہا کہ ملک کے حالات بہت گمبھیر ہوگئے ہیں، اگر یہ صاف ، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کی بات کریں، میں ہمیشہ بات کرنے کے لیے تیار ہوں، چور دروازے کے بجائے اگر صاف شفاف الیکشن سے آئیں تو پھر یہ آرمی چیف کا تقرر کرلیں۔ قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ اس کی راہ نکالی جاسکتی ہے۔

سابق امریکی سفارت کار رابن رافیل سے ملاقات کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ رابن رافیل کو بہت پہلے سے جانتا ہوں، وہ حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے تھنک ٹینک کے ساتھ ہیں۔ میری امریکا سے کوئی ٹینشن نہیں، میرا نکتہ نظر بہت واضح تھا کہ ہمیں روس سے سستا تیل اور گندم خریدنا ہے، اس کے لئے ہمیں اس سے طویل مدتی تعلقات بڑھانے ہوں گے، دو ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں مسئلے آتے ہیں لیکن وہ حل ہوجاتے ہیں، اگر بھارت کشمیر کی آئینی حیثیت بحال کرے ہم اس سے بھی بات کرنے کے لیے تیار تھے۔ ہمارا مقصد ملک کے عوام کی زندگیوں کو بہتر کرنا ہے، اس کے لئے جنگ نہیں امن کی بات کرنی ہے۔ میں امریکا مخالف نہیں، میرا کام اپنے ملک کا دفاع اور ان کا تحفظ ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت سے متعلق کیس پر عمران خان نے کہا کہ ’معافی مانگنے کا طریقہ ہے، کوئی چیز بری لگی ہے تو اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں، جب مجھے پتہ چلا کہ وہ اس سے آگے جانا چاہتے ہیں، اصل میں میں نے ان کو کہا کہ میں بات کرنا چاہتا ہوں، مجھے موقع ملتا تو میں شائد وہ کہہ دیتا جو وہ چاہتے ہیں، انہوں نے مجھے بات کرنے کا موقع نہیں دیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More