وزیراعظم عمران خان کی خواجہ آصف کیخلاف ہرجانے کے کیس کی سماعت

اسلام آباد کی مقامی عدالت میں وزیر اعظم عمران خان کی لیگی رہنما خواجہ آصف کیخلاف ہرجانے کی کیس کی سماعت۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے عدالت میں جمع کردہ بیانِ حلفی میں خواجہ آصف کی جانب سے شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کیخلاف عائد کردہ تمام الزامات کو جھوٹا، من گھڑت اور ہتک آمیز قرار دیدیا۔

وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے سابق وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے خلاف شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کے فنڈ میں غیر شفافیت، منی لانڈرنگ اور بے نامی کمپنیوں کے استعمال جیسے الزامات لگانے پر دس ارب روپے ہرجانے کے کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد عدنان نے کی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے خواجہ آصف کے خلاف دائر ہتکِ عزت کے کیس میں اپنے وکیل سینیٹر ولید اقبال کی موجودگی میں اپنے دفتر سے ای کورٹ کے ذریعے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن عدالت اسلام آباد کی کاروائی میں شرکت کی۔

یکم اگست دوہزار بارہ کو خواجہ آصف نے پہلے پنجاب ہاؤس میں منعقدہ اپنی پریس کانفرنس میں یہ الزامات لگائے اور بعد ازاں اسی روز شام کو نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں ان من گھڑت الزامات کو دہرایا۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے عدالت میں بیانِ حلفی جمع کروایا گیا جس میں ان الزامات کو جھوٹا، من گھڑت اور ہتک آمیز قرار دیا۔

بیانِ حلفی کے مطابق انیس سو اکانوے سے دوہزار نو تک عمران خان شوکت خانم کے سب سے بڑے انفرادی ڈونر رہے۔ شوکت خانم ٹرسٹ کی سرمایہ کاری اسکیمیوں کے حوالے سے فیصلہ سازی ایکسپرٹ کمیٹی کرتی تھی جس میں وزیرِ اعظم عمران خان کی کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ شوکت خانم کی جن سرمایہ کاری سکیموں کے حوالے سے یہ بے بنیاد و من گھڑت الزامات لگائے گئے وہ مکمل طور پر بغیر کسی نقصان کے شوکت خانم ٹرسٹ نے واپس وصول کیں۔

وزیرِ اعظم کے بیانِ حلفی میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ایسے من گھڑت اور بے بنیاد الزامات کا سہارا لے کر قومی میڈیا کے ذریعے عوام کے شوکت خانم ٹرسٹ پر اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More