تازہ ترین
معاونین خصوصی کو ہٹانے کی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ

معاونین خصوصی کو ہٹانے کی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:(30 جولائی 2020)اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم کے معاونین کو عہدوں سے ہٹانے کیلئے دائر درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے پاکستان منصف پارٹی کے چیئرمین ملک منصف اعوان کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 93 کے تحت 5 مشیر مقرر کیے جا سکتے ہیں،جس پر چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ آرٹیکل 93 مشیروں سے متعلق ہے، معاونینِ خصوصی سے متعلق نہیں، بتائیں آئین میں کہاں لکھا ہے کہ وزیرِ اعظم کے معاونین دہری شہریت نہیں رکھ سکتے؟۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ آئین میں ایسا کچھ نہیں لکھا لیکن رولز آف بزنس میں یہ پابندی موجود ہے،جس پرچیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ رول 15 تو 2010 میں حذف کیا جا چکا ہے، وزیرِ اعظم کو جب عوام منتخب کرتے ہیں تو ان پر بھاری ذمے داریاں عائد ہو جاتی ہیں۔

،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے بتائیں آئین میں کہاں لکھا ہے معاونین دوہری شہریت نہیں رکھ سکتے،دوہزار دس میں رُول پندرہ حذف کیا جا چکا ہے

معزز جج نےاپنے ریمارکس میں کہا کہ وزیرِ اعظم اگر اپنی ذمے داریاں نبھانے کے لیے کسی کی مدد لیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ اگر وزیرِ اعظم کو اتنا اختیار بھی نہ دیں کہ وہ کسی کو معاون رکھے تو نظام کیسے چلے گا؟

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ عدالت میں آئینی معاملات لانا اچھا ہے لیکن اور بہت سے اہم معاملات بھی ہیں، لوگ جیلوں میں پڑے ہیں،بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

Comments are closed.

Scroll To Top