سی ڈی اے کو نیوی گالف کورس کا قبضہ لینے کی ہدایت

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے کو نیوی گالف کورس کا قبضہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے سیکریٹری دفاع ‏کوتجاوزات کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت ‏نے مارگلہ ہلز نیشنل ‏پارک کی حدود کا تعین جلد از جلد مکمل کرنے اورچیف کمشنراسلام آباد کو مارگلہ کی پہاڑیوں پر قائم مشہور ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کا حکم بھی دے ‏دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں غیرقانونی تعمیرات ‏اورتجاوزات کے خلاف کیسز پر سماعت کی. چیف جسٹس نے ‏ریمارکس دیئے کہ ہے اس چودہ سو اسکوائر ‏میل میں لاقانونیت حیران کن ہے۔ تین آرمڈ فورسز کے سیکٹر بن گئے ‏ہیں۔ آرمڈ فورسز کو کسی طور متنازعہ نہیں ہونا چاہیئے، یہ عوامی مفاد میں نہیں۔ سیکرٹری دفاع ‏نے ‏یقینی بنانا ہے کہ ایسا کچھ نہ ہو کہ بعد ازاں شرمندگی کا باعث بنے۔

‏‏چیف جسٹس نے ریمارکس کہا کہ کیا گولف کورس ‏سیکورٹی مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے۔ عدالت چاہتی ہے عوام کی نظروں میں ‏آرمڈ فورسز کی عزت ‏بنے۔ مارگلہ ہلز نیشنل پارک ایریا میں کوئی سرگرمی نہیں ہوسکتی۔ یہ ‏وفاقی حکومت کی زمین ہے جہاں سے کسی کو گھاس تک کاٹنے کی ‏اجازت نہیں۔ اس زمین کی ‏ملکیت ٹرانسفر نہیں ہوئی۔ عدالت نے نیشنل پارک کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

چیئرمین سی ڈی اے ‏نے عدالت کو بتایا کہ نیوی سیلنگ کلب گرانے کا ‏نوٹس دے دیا ہے۔ بہتر ‎گھنٹے میں سامان نہ ہٹایا گیا تو سی ‏ڈی اے آپریشن کرے گا۔ ہرادارے نے کہیں نہ کہیں تجاوزات کی ہوئی ہیں۔ عدالت نے نیوی گالف ‏کورس کو ‏آج ہی سی ڈے اے کے سپرد کرنے کی ہدایت کردی۔
قراردیا کہ آئندہ نسلوں کے مستقبل کا ‏معاملہ ہے۔ نینشںل پارک میں غریب آدمی نہیں جاسکتا۔ نینشںل پارک کو ایلیٹ ‏کلاس ہی تباہ کر ‏رہی ہے۔ عدالت نے ‏انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کو نیشنل پارک میں تعمیرات سے ‏ہونے والے نقصان کے تخمینے پر مبنی رپورٹ پیش ‏کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More