پیکا ایکٹ :اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو گرفتاریوں سے روک دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کیخلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی پٹیشن پر پیکا ایکٹ کے سیکشن بیس کے تحت کسی شکایت پر ایف آئی اے کو گرفتاریوں سے روکتے ہوئے اٹارنی جنرل کو معاونت کیلئے طلب کرلیا،چیف جسٹس اطہر من اللہ نےکہااگر ایف آئی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی ایس او پیز پر عمل نہ ہوا تو ڈی جی ایف آئی اے اور سیکریٹری داخلہ ذمہ دار ہوں گے

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ سیکشن بیس میں کیا ترمیم کی گئی ہے؟ جس پر وکیل نے بتایاکہ سزا تین سال سے پانچ سال کر دی گئی ہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ عوامی شخصیت کیلئے تو ہتک عزت کا قانون ہونا ہی نہیں چاہیئے،عدالت نے پیکا ایکٹ کی سیکشن بیس کے تحت ایف آئی اے کو گرفتاریوں سے روکتے ہوئے اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کردیا۔

جسٹس اطہر من اللہ کے مطابق ایف آئی اے پہلے ہی ایس او پیز جمع کرا چکی ہے جس کے مطابق سیکشن بیس کے تحت کسی شکایت پر گرفتاری عمل میں نہ لائی جائے اگر ایس او پیز پر عمل نہ ہوا تو ڈی جی ایف آئی اے اور سیکریٹری داخلہ ذمہ دار ہوں گے،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More