دن رات عوام کی خدمت میں ایک کروں گا، حمزہ شہباز

لاہور: نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ سب چیزوں کے باوجود آج جمہوریت کی فتح ہوئی۔ عمران خان نے دھاندلی کے ذریعے الیکشن چرایا تھا۔ آج بھی شکست دیکھ کر اسمبلی سیل کرا دی۔ یہ ڈپٹی اسپیکر پر نہیں بلکہ ایوان پر حملہ تھا۔ میں نواز شریف کا کارکن ہوں۔ دن رات عوام کی خدمت میں ایک کروں گا۔

حمزہ شہباز شریف نے پنجاب کے اکیسویں وزیراعلیٰ منتخب ہوتے ایوان میں اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ پچھلے دوہفتوں سے ایک ہیجانی کیفیت میں قوم مبتلا رہی، ادھر سے حملہ ہوتا ہے اور اجلاس کی کارروائی کو چلنے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے ایوان میں نیا سپیکر لانے کا اعلان بھی کیا۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر پر حملہ کیا گیا، ڈپٹی اسپیکر پر حملہ ایوان کے تقدس پر حملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر صاحب آپ نے اپنا فرض جس طرح سے بہادری سے ادا کیا اس پر آپ خراج تحسین کے مستحق ہیں، ڈپٹی اسپیکر صاحب آپ کو زچ کیا گیا۔ آپ کے احکامات کو نہیں مانا گیا۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ سب چیزوں کے باوجود آج جمہوریت کی فتح ہوئی ہے۔ برا وقت آتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ عمران نیازی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جو وعدے آپ نے قوم سے کیے تھے ان وعدوں کا کیا ہوا؟

انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے پلانٹس بند ہونے سے 7000 میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل نہیں کی جارہی۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ صوبے میں میرٹ پر افسران کی تعیناتی ہوتی تھی، کہیں کوئی واقعہ ہوتا تھا تو شہباز شریف خود پہنچتے تھے۔

نو منتخب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لاہور میں دن دیہاڑے ڈاکے اور ریپ ہوتے ہیں، سیف سٹی کے 30 فی صد کیمرے خراب پڑے ہیں، 5 آئی جی اور 6 چیف سیکرٹریز بدل دیے گئے۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ آپ کوئی بڑا منصوبہ نہیں بنا سکے تو کوڑا ہی اٹھالیتے۔ آج لاہور شہر کی صفائی کا کوئی پرسان حال نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں پر کامیاب کڈنی ٹرانسپلانٹ شروع ہو چکے تھے۔ اب ہیلتھ کارڈ پر ڈاکٹر کہتے ہیں جاؤ پہلے دوائی لے کر آؤ۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ میں نواز شریف کا کارکن ہوں۔ دن رات عوام کی خدمت میں ایک کروں گا۔ مہنگائی نے عام آدمی کا بھڑکس نکال دیا ہے۔ صوبے میں ایک نا اہل شخص کو وزیر اعلیٰ لگا کر سازش کی گئی۔

نو منتخب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 58 ہزار لوکل باڈیز ممبرز کو انھوں نے یک جنبش قلم ختم کیا۔ اگر ملک نے آگے چلنا ہے تو بہترین بلدیاتی نظام صوبے میں متعارف کروانا ہوگا۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ مجھے خوشی نہیں ہمارے لاء انفورسمنٹ ایجنسز کو ایوان میں آنا پڑا۔ پولیس نے آج جو کردار ادا کیا ہے میں ان کو بھی شاباش دیتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ حسن مرتضیٰ، علیم خان، جہانگیر ترین سمیت دیگر کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔

نومتنخب وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ عمران خان نے دھاندلی کر کے الیکشن چرایا تھا۔ دھاندلی کے باوجود ہم نے جمہوریت کا ساتھ دیا۔ جہانگیرترین، علیم خان اور میرے خلاف مقدمات بنائے گئے۔ وقت گزر جاتا ہے لیکن کردار یاد رہتے ہیں۔

حمزہ شہباز نے فوڈ اتھارٹی اور سیف سٹی اتھارٹی کو مکمل فعال کرنے، پرائس کنٹرول کمیٹی میں شہریوں کو نمائندگی دینے اور شہروں کے دورے کرنےکا ابھی اعلان کیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پہلی دوسری تیسری ترجیح عوام کے مسائل حل کرنا ہوگا۔ عوام کے مسائل کو سب سے پہلے حل کریں گے۔ انتقام پر یقین نہیں رکھتا۔ ملکی ترقی کیلئے اپوزیشن سمیت سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More