حکومتی اقدام ملک کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد : مسلم لیگ نون کا کہنا ہے کہ حکومت نے پارلیمنٹ کو بلڈوز کرکے بل پاس کرایا ہے یہ اقدام ملک کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا۔وزیراعظم اور وزرا ء جھوٹ بولنے لگیں تو یہی کچھ ہوتا ہے جو ہورہا ہے۔

اسلام آباد میں مسلم لیگ نون کے رہنما ؤں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ،احسن اقبال، خرم دستگیر اورمفتاح اسماعیل نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔ لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان بلڈنگ فتح کرنےکونہیں کہاجاتا ہے ۔ پارلیمان روایات اورآئین کےمطابق چلتاہے۔ جب ملک کا وزیراعظم اوروزرا جھوٹ بولناشروع کردیں توپھر یہی ہوتاہے جو ہو رہا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں دنیا کےسستے ترین ایل این جی کےٹرمینل ہیں، کیا حکومت 3 سال میں کوئی ایل این جی کا ٹرمینل لگا سکی۔ ملک میں گیس کی کمی ہے تو کیوں آپ نےایل این جی نہیں خریدی؟۔کل پرویزخٹک سےکہا کہ 5 سال میں وزیر پٹرولیم رہا کیا کبھی خیبرپختونخوا کو گیس کی کمی کاسامناہوا۔ موجودہ حکومت کی باتوں پررونا بھی آتا ہےاورہنسنا بھی آتاہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت فیل وزیروں کا سرکس ہے۔ وزیرایک وزرات میں فیل ہوتا ہے تو اسے اس سے بڑی وزارت دے دی جاتی ہے۔ کل وہ شخص اسمبلی میں تقریر کررہا تھا جسے فیل ہونے پروزارت خزانہ سےنکالا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال 23 مارچ کو اسلام آباد میں تاریخی عوامی پریڈ ہوگی ۔

خرم دستگیر نے کہاکہ ایک سال میں مہنگائی 22 فیصد بڑھ چکی ہے ۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں روزبروز اوپر جارہی ہیں۔ کل کے بل کا اثر کسانوں اور کاشتکاروں پر ہوگا۔ عمران خان نے پہلے عوام کا گلہ کاٹا اب سرنج سے خون نکالا جارہا ہے۔ کل کا بل پاس کروانے کے بعد اسٹیٹ بینک کا نام اب غلام بینک رکھ دیا جائے۔ کل حکومت نے بل پاس نہیں کئے بلکہ خودکشی کے کاغذ پر دستخط کروائے۔

مفتاح اسماعیل نے کہاکہ اب سالانہ سات سو ارب ہر سال عوام سے لیا جائے گا۔آپ اخراجات کم لیتے تو یہ سب کچھ نہ کرنا پڑتا۔ عمران خان کے اے ٹی ایمز کو آئی ایم ایف کچھ نہیں کہتی۔ جو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہ رہا ہے آپ نے اس پر بھی ٹیکس لگا دیا۔

مفتاح اسماعیل نے کہاکہ شہبازشریف کے دور میں دی جانے والی مفت ادویات ختم کرکے ان کی قیمت چار گنا بڑھا دی گئیں۔اگر تین سو ارب جمع کرنے تھے تو اپنے اخراجات کم کرلیتے۔ فنانس منسٹری اور گورنرا سٹیٹ بینک کی آپس میں نہیں بنتی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More