سینیٹ اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے ایک دوسرے پر لفظی وار

اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ایوان بالا کے اجلاس میں منی بجٹ ، آئی ایم ایف معاہدے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔اپوزیشن لیڈریوسف رضا گیلانی نے سوالات کا جواب نہ دینے کا شکوہ کیا توسینیٹردوست محمد نے وزیر داخلہ شیخ رشید کے نہ آنے کی شکایت کی۔

ایوان بالا کے اجلاس میں قائد ایوان شہزاد وسیم نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی 10 بار،مسلم لیگ ن چار بار آئی ایم ایف کے پاس گئی۔ جہاں وردی والے نہیں ہوتے اپوزیشن غائب ہوتی ہے ۔پیپلزپارٹی کا چیئرمین سی وی لیکرکسی بینچ پربیٹھا ہے ۔

وزیرمملکت پارلیمانی امورعلی محمد خان نے کہاکہ موجودہ حکومت نے عوام کا پیسہ پانامہ اورسوئس بینکوں میں نہیں بھیجا۔ روٹی کپڑا مکان کانعرہ لگانے والوں نےکچھ نہیں کیا۔سینیٹرمشتاق احمد نےنادرا میں مسلح افراد کی ریٹائرڈ ملازمین کے بھرتی کے گئے افراد کی تفصیلات نہ ملنے کا شکوہ کیا تو علی محمد خان نے دوبارہ سوال بھیجنے کا کہہ دیا۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے حکومت پر کڑی تنقیدکرتے ہوئے قومی سلامتی پالیسی کوصرف ایک کاغذ قراردے دیا ۔ بولیں اسٹیٹ بینک گروی اورآئی ایم ایف معیشت چلا رہا ۔ایسے میں کہاں کی سیکیورٹی پالیسی،؟۔

وزیرمملکت علی محمد خان حکومتی اتحادی سینیٹردینش کمارپربھی طنزکیابولےکہ بیٹھے حکومتی بینچز پر ہیں مگرکرداراپوزیشن کا کرتا ہے۔ سینٹرمحسن عزیر بولے اپوزیشن میں شرپسند عناصر ایوان کو چلنے نہیں دیتے جس پر ایوان کا موحول گرم ہوگیا جس کے بعد چیئرمین سینیٹ نے اجلاس غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More